خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 257

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۷ جلد سوم کر دیتے ہیں یا اس کی قدر نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہماری حمد جھوٹی تھی کیونکہ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ وہ کام جس پر ہم نے الْحَمْدُ للهِ کہا ایسا اچھا نہ تھا اگر اچھا ہوتا تو اسے جاری رکھتے بلکہ اسے بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرتے پس یہ جو خوشی کا جلسہ ہوا اس نے در حقیقت ہماری ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیا ہے ممکن ہے اگر یہ جلسہ نہ ہوتا تو لوگ کہہ دیتے کہ ہم نہیں سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ کا ہم پر اتنا بڑا احسان ہے مگر اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے۔اب ہر شخص نے اس امر کا اقرار کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا اور جب خدا نے احسان کیا ہے تو اس کو اب بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے یا ختم کرنیکی۔پس میرے نز دیک اس جلسہ نے ہماری جماعت پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔یوں تو ہر روز خدا تعالیٰ کی جماعت کو خوشیاں پہنچتی ہی رہتی ہیں مگر ہر روز جشن نہیں منائے جاتے ایک خاص جلسے کے منانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک منزل پر پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے کام میں ایک درجہ کو حاصل کر لیا ہے۔پس اس کے بعد ایک نئی ولادت کی ضرورت ہے گویا پہلا سلسلہ ختم ہوا اور اب ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا جیسے ایک دانہ بویا جاتا ہے تو اس سے مثلاً ۷۰ یا ۱۰۰ دانے نکل آتے ہیں اب ۷۰ اور ۱۰۰ دانوں کا نکل آنا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے مگر وہ پہلے پیج کا ایک تسلسل ہوتا ہے اور زمیندا را سے کوئی نیا کام نہیں سمجھتا بلکہ وہ سمجھتا ہے میرے پہلے کام کا ہی سلسلہ جاری ہے لیکن جب زمیندار ان نئے دانوں کو پھر زمین میں ڈال دیتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اب میرے کام کا نیا دور شروع ہوا۔کام تو وہی ہے مگر اب کام کے دور میں فرق کرنے لگ جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرا پہلا کام ختم ہوا اور اب ایک نیا کام شروع ہے۔اسی طرح جب ہماری جماعت نے اس جلسہ کو خوشی کا جلسہ قرار دیا تو بالفاظ دیگر انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا پہلا پیج جو بویا ہوا تھا اُس کی فصل پک گئی اب ہم نیا بیج بور ہے ہیں اور نئی فصل تیار کرنے میں مصروف ہو رہے ہیں۔یہ اقرار بظا ہر معمولی نظر آتا ہے لیکن اگر جماعت کی حالت کو دیکھا جائے تو اس اقرار کی اہمیت بہت بڑھ جاتی اور اس پر ایسی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اگر اس کے افراد رات دن کوشش نہ کریں تو اس ذمہ داری