خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 255
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۵ جلد سوم جلسہ کو دو خوشیوں کا موجب قرار دیا۔ایک خوشی تو یہ کہ پیغام نبوت پچاس سالہ کامیابی کے ساتھ با وجود دشمنوں کی مخالفت کے ایسی شان و شوکت پیدا کر چکا ہے کہ دنیا اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہے دوسری خوشی یہ کہ پیغام خلافت چھپیس سالہ مخالفت بلکه شروع خلافت کے وقت کے جماعت کے عمائدین کی مخالفت کے باوجو د ترقی کرتا چلا گیا یہاں تک کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ دنیا کے تمام حصوں کو منظم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔دنیا میں ب کسی شخص کو کوئی خوشی پہنچتی ہے یا جب کوئی شخص ایسی بات دیکھتا ہے جو اس کیلئے راحت کا موجب ہوتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے تو وہ ایسے موقع پر یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ہے کہ ہم کو یہ بات حاصل ہوئی اور جب کسی مسلمان کو ایسی خوشی پہنچتی ہے تو وہ اس مفہوم کو عربی زبان میں ادا کرتا اور کہتا ہے الحمدللہ۔تو اس جلسہ پر ہماری جماعت نے جو خوشی منائی اس کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ یہی بنے گا کہ پیغام نبوت اور پیغام خلافت کی کامیابی پر ہماری جماعت نے اس سال احمدیہ کہا مگر باقی دنیا اور اسلام کی تعلیم میں ایک فرق ہے۔باقی دنیا الْحَمدُ لله کو اپنی آخری آواز سمجھتی ہے مگر اسلام الْحَمْدُ للهِ کو نہ صرف آخری آواز قرار دیتا ہے بلکہ اس کو ایک نئی آواز بھی قرار دیتا ہے اسلامی تعلیم کے مطابق الحمد لله کا ئنات کے آدم اول کی بھی آواز تھی جیسا کہ وہ کائنات کے آدم آخر کی آواز ہے اور اس طرح اسلام الحمد للہ کے ساتھ اگر ایک سلسلہ اور ایک کڑی کوختم کرتا ہے تو ساتھ ہی دوسرے سلسلہ اور دوسری کڑی کو شروع کر دیتا ہے۔چنانچہ سورۃ فاتحہ میں ہم کو یہی بتایا گیا ہے۔وہ الحمدللہ سے شروع ہوتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کامیابی اور خوشی دیکھ کر ایک مسلم کہتا ہے۔الحمدلله مگر الْحَمْدُ للهِ سورة فاتحہ کی آخری آیت نہیں بلکہ سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت اور جب ہم اسے پڑھتے چلے جاتے ہیں تو اس کے درمیان ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اِيّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی اے ہمارے ربّ! الحمد کے نتیجہ میں ایک اور پروگرام ہمارے سامنے آ گیا ہے اور ایک نئے کام کی بنیا د ہم نے ڈال دی ہے ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم پورے طور پر اس کام کو چلانے کی کوشش کریں گے اور ہم تجھ سے چاہتے ہیں کہ تو اس راہ میں ضروری سامان ہمیں مہیا کر