خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 254

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۴ جلد سوم موجود ہیں اور دوسرے اس وجہ سے اس جلسہ کو ایک خوشی کا جلسہ قرار دیا گیا کہ وہ خلافت جو تابع نبوت ہوتی ہے اس کے متعلق بھی لوگوں میں ایسے ہی خیالات موجود تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ خلافت کا خیال دنیا میں قائم نہیں رہ سکتا اور اس آزادی اور نام نہاد ڈیما کریسی کی موجودگی میں خلافت دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ خیال زیادہ تر دوسری خلافت کے شروع میں پیش کیا گیا اور اس پر بہت کچھ زور دیا گیا مگر با وجو د اس کے گزشتہ پچیس سال میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کی عظمت قائم کی اور اس کے دامن سے جولوگ وابستہ تھے انہیں ہر میدان میں فتح دی اور ان کا قدم ترقی کی طرف بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ پچیس سال میں جماعت کہیں کی کہیں پہنچ گئی۔ہماری جماعت کی ترقی اور اس کی رفتار کی تیزی اس امر سے ہی سمجھی جاسکتی ہے کہ آج ہم ایک معمولی جمعہ کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں جس میں کوئی خاص خصوصیت نہیں صرف قادیان اور چند ارد گرد کے دیہات کے لوگ شامل ہیں مگر باوجود اس کے اس مسجد میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی مسجد سے چار گنے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے تمام لوگ بھرے ہوئے ہیں اور ابھی مستورات کیلئے علیحدہ انتظام ہے وہ حصہ اس سے قریباً تہائی ہوگا اور وہ بھی تمام کا تمام بھرا ہوا ہوتا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری سال جو جلسہ سالا نہ ہوا اس میں جو احمدی شامل ہوے وہ اس مسجد کے چوتھے حصہ میں سما گئے تھے۔ہمارے دادا کی جو قبر ہے یہ انتہائی اور آخری حد تھی اور میرے بائیں طرف دو تین گز چھوڑ کر جوستون ہے وہ اس کی ابتدائی حد تھی میرے دائیں طرف مسجد کا کل حصہ اسی طرح بائیں طرف کا برآمدہ اور قبر سے لے کر مشرق کی طرف کا سب حصہ یہ سب زائد ہیں اس نسبت سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ حلقہ اُس وقت کے اجتماع سے چار گنے سے بھی زیادہ ہوگا۔یہ اُس وقت کے جلسہ کے لوگوں کی کل تعدا د تھی اور اس تعداد کو اتنا اہم سمجھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ میں متواتر فرمایا کہ ہم سمجھتے ہیں ہمارا کام دنیا میں ختم ہو چکا ہے مگر آج ہمارے ایک معمولی جمعہ میں اس سے چار گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی موجود ہیں۔تو یہ دونوں باتیں چونکہ ہماری جماعت کیلئے خوشی کا موجب تھیں اس لئے انہوں نے اس سالانہ