خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 224

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۴ جلد سوم معلوم ہوا کہ ناظر بعض جگہ گئے اور جماعت نے لا پروائی کا ثبوت دیا تو میں نے شوری میں اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور بتایا کہ یہ طریق صحیح نہیں۔جب بھی کوئی ناظر بحیثیت ناظر کسی جگہ جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔چنانچہ اس کے بعد جماعت میں اس کا احساس پیدا ہوا اور انہوں نے ناظروں کا مناسب اعزاز کیا۔ابھی تو ہماری جماعت میں کوئی بڑے آدمی ہیں ہی نہیں لیکن بڑے سے بڑا آدمی بھی نظام سلسلہ کے لحاظ سے ناظروں کے ماتحت ہے اور جب بادشاہ ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تو وہ بھی نظام سلسلہ کے لحاظ سے ناظروں کے ماتحت ہوں گے خواہ کوئی ان ناظروں میں سے کسی بادشاہ کی رعایا کا فرد ہی کیوں نہ ہو اور نظام سلسلہ کے لحاظ سے وہ اس کے ماتحت ہوگا اور اُس کو اُس کا ادب و احترام اسی طرح کرنا ہوگا جیسے ایک ماتحت ، افسر کا کرتا ہے۔اس حقیقت کی موجودگی میں عقلاً یہ ممکن ہی کس طرح ہوسکتا ہے کہ قانون پر چلتے ہوئے کوئی شخص ناظروں کی سبکی یا ہتک کا خیال بھی کر سکے۔مگر اس کے مقابلہ میں جماعت کے بھی حقوق ہیں۔مثلاً جب ناظروں سے کوئی ملے تو خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹا کیوں نہ ہو نا ظر کا فرض ہے کہ اس کا ادب اور احترام کرے اور اگر میرے پاس یہ شکایت پہنچے کہ کوئی نا ظر کسی چھوٹے آدمی کا مناسب ادب نہیں کرتا تو اُس وقت میں افراد جماعت کے ساتھ ہوں گا۔یوں میرے پاس بعض شکایات آتی ہیں میں ان کی تحقیقات نہیں کراتا کیونکہ میں نصیحت کو تحقیقات سے بہتر سمجھتا ہوں۔پس نصیحت کر دیتا ہوں۔لیکن بہر حال ناظروں کا فرض ہے کہ جو لوگ ان سے ملنے آئیں اُن سے عزت و احترام سے پیش آئیں۔میں خود بھی کوئی کونے میں بیٹھنے والا شخص نہیں ہوں۔ہر روز دس پانچ بلکہ ہیں تھیں اشخاص مجھ سے ملنے آتے ہیں جن میں غریب سے غریب بلکہ سائل بھی ہوتے ہیں بلکہ اکثر سائل ہوتے ہیں۔لیکن میں جیسا اعزاز بڑے سے بڑے آدمی کا کرتا ہوں ویسا ہی چھوٹے سے چھوٹے کا بھی کرتا ہوں۔مثلاً حکومت کے عہدہ کے لحاظ سے ہماری ہندوستان کی جماعت میں چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب سب سے بڑے عہدیدار ہیں لیکن ان کے آنے پر بھی میں ان کا استقبال اُسی طرح کرتا ہوں جس طرح ایک غریب کے آنے پر۔اور