خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 223
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۳ جلد سوم گے۔بعض دفعہ وہ اور ان کے مشیر دونوں غلطی کریں گے لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہیں ہی حاصل ہوگی۔جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنیں گی وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط کہ کوئی اسے توڑ نہ سکے گا۔پس اس لحاظ سے خلیفہ وقت کا یہ فرض ہے کہ جس حصہ میں بھی اسے غلطی نظر آئے اس کی اصلاح کرے۔جہاں اس کا یہ فرض ہے کہ منتظمین اور کارکنوں کی پوزیشن قائم رکھے وہاں یہ بھی ہے کہ جماعت کی عظمت اور اس کے مشورہ کے احترام کو بھی قائم رکھے۔اگر جماعت کسی وقت کا رکنوں کے حقوق پر حملہ کرے تو اس کا کام ہے کہ اسے پیچھے ہٹائے۔اگر کبھی کارکن جماعت کے حقوق کو دبانا چاہیں تو خلیفہ کا فرض ہے کہ انہیں روک دے۔مجلس شوری کی گزشتہ رپورٹوں سے جو چھپی ہوئی ہیں یہ بات پوری طرح ظاہر ہوتی ہے کہ میں نے متوازی طور پر ان دونوں باتوں کا خیال رکھا ہے۔اگر ناظروں پر جماعت نے نا واجب اعتراض کئے ہیں تو میں نے سختی کے ساتھ اور بے پرواہ ہو کر ان کے اس فعل کے قباحت کی وضاحت کی ہے۔اور اگر کبھی ناظروں نے جماعت کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہا ہے تو ان کو بھی ڈانٹا ہے۔یہ متوازی سلسلہ جو خدا تعالیٰ نے جاری رکھا ہے میں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اگر ایک طرف ناظروں کا احترام اور اعزاز جماعت کے دلوں میں پیدا کیا جائے تو دوسری طرف جماعت کی عظمت کو بھی قائم رکھا ہے۔میں جانتا ہوں کہ اگر ایک حصہ کو چھوڑ دیا جائے تو دوسرے کی عظمت بھی قائم نہ رہ سکے گی۔اور اگر دونوں کو چھوڑ دیا جائے تو باوجود نیک نیتی اور نیک ارادہ کے ایک حصہ دوسرے کو کھا جائے گا۔اگر کارکنوں کے اعزاز اور احترام کا خیال نہ رکھا جائے تو نظام کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔اور اگر جماعت کے حقوق کی حفاظت نہ کی جائے اور اس کی عظمت کو تباہ ہونے دیا جائے تو ایک ایسا آئین بن جائے گا جس میں خود رائی کے اور خودستائی غالب ہو گی۔اس لئے میں ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھتا ہوں کہ جس کی غلطی ہو اُ سے صفائی کے ساتھ کہہ دیا جائے۔چنانچہ مجلس شوریٰ کی گزشتہ رپورٹوں سے یہ بات پوری طرح ظاہر ہوتی ہے کہ میں نے ناظروں کے اعزاز کو قائم کرنے کا پوری طرح خیال رکھا ہے۔چنانچہ گزشتہ رپورٹوں سے ظاہر ہوگا کہ جب مجھے