خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 225
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۵ جلد سوم ونے میں اس بارہ میں چوہدری صاحب اور ایک غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔اسی طرح چوہدری صاحب کو کھڑا ہو کر ملتا ہوں جس طرح ایک غریب آدمی کو۔اور پہلے اُسے بٹھا کر پھر خود بیٹھتا ہوں۔بعض غریب اپنے اندازہ سے زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں نہیں بیٹھنے دیتا اور ان سے کہہ دیتا ہوں کہ جب تک آپ نہ بیٹھیں گے میں بھی کھڑا رہوں گا۔بعض دفاتر کے چپڑاسی آتے ہیں اور وہ زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ نہیں آپ چپڑاسی کی حیثیت سے نہیں بلکہ مجھے خلیفہ سمجھ کر ملنے آئے ہیں۔غرضیکہ جب تک آنے والے کو نہ بٹھالوں میں خود نہیں بیٹھتا۔مجھے ملنے والوں کی تعداد ہزاروں تک ہے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں کبھی تخلف ہوا ہو۔سوائے اس کے کہ میں بیمار ہوں یا کسی کام میں مشغول ہو کی وجہ سے کبھی غلطی ہو جائے۔ہاں جلسہ سالانہ کے ایام متقی ہیں۔اُن دنوں میں ملنے والے اس کثرت سے آتے ہیں کہ ہر ایک کیلئے اُٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ہاں اُن دنوں میں بھی جب کوئی غیر احمدی آئے تو چونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ میری مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا اس کیلئے کھڑا ہو جاتا ہوں۔یا پھر ان ایام میں جب ملاقات کا زور نہ ہو تو کھڑا ہوتا ہوں۔یہ میرا اصول ہے اور میں سمجھتا ہوں ناظروں کو بھی ایسا کرنا چاہئے اور اگر اس کے خلاف کبھی شکایت آئے تو میں چاہتا ہوں کہ جس کے خلاف شکایت ہو اُسے تنبیہ کی جائے۔جب تک یہ بات قائم نہ ہو اسلام کی روح قائم نہیں ہو سکتی۔ذرا غور کرو کہ خلیفہ چھوڑ نبی کا بھی کیا حق ہے کہ وہ بندوں پر حکومت کرے۔اگر ہم مذہب اور اسلام کی روح کو سمجھتے ہیں تو اس خدمت کی روح کو بھی سمجھنا چاہئے جس کیلئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔کیا ہمارے لئے یہ بات کم ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو ایک رتبہ دے دیا ہے۔وہ ہمیں ایک چھوٹا سا دنیوی کام کرنے کو دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اپنا مقرب بنالیتا ہے۔گویا اُجرت اس نے ادا کر دی پھر ہمارا کیا حق ہے کہ دونوں جگہ سے اُجرت وصول کریں۔کیا دنیا میں کوئی ایسا مزدور بھی ہوتا ہے جو دو جگہ سے اپنی اجرت وصول کرے۔پس جب خدا تعالیٰ ہمیں اس خدمت کی اُجرت ادا کرتا ہے تو بندوں سے کیوں لیں۔قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے کہ میں تم