خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 197
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۷ جلد سوم کے بعد حکومت قائم ہو گئی۔اور طبعا منافقوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کیونکہ آپ کی مدینہ میں تشریف لانے کی وجہ سے ان کی کئی امید میں باطل ہو گئی تھیں۔چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج۔اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل اور خونریزی کا بازار گرم رہتا۔جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہمارے قبائل کا رُعب مٹتا جا رہا ہے تو انہوں نے آپس میں صلح کی تجویز کی اور قرار پایا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کر لیں اور کسی ایک شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیں چنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اور فیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم بھی دے دیا گیا۔اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ - واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ آخری زمانہ کا نبی مکہ میں ظاہر ہو گیا ہے اور ہم اس کی بیعت کر آئے ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔اور چند دنوں کے بعد بعض اور لوگوں نے بھی مکہ جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔پھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلّم ہمارے ساتھ بھیجیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو مبلغ بنا کر بھیجا اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔اُنہی دنوں میں چونکہ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بہت سی تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں اس لئے اہل مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مدینہ میں تشریف لے آئیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے صحابہ سمیت مدینہ ہجرت کر کے آگئے۔اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کے لئے جو تاج تیار کروایا جا رہا تھا وہ دھرا کا دھرا رہ گیا کیونکہ جب انہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیا تو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا۔اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا۔اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اُس کے دل میں اگر