خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 196
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۶ جلد سوم اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے۔پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہو کر اس عقیدت کو ترک کر دیں جو انہیں آپ سے تھی اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔جس طرح حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں پیغامیوں کا گر وہ مجھ پر اعترض کرتا رہتا تھا اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔پس یہی وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔حدیثوں میں صریح طور پر آتا ہے کہ صحابہؓ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکر کا ہی مقام ہے۔پھر حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ يَا رَسُولَ الله آپ میری فلاں حاجت پوری کر دیں۔آپ نے فرمایا اس وقت نہیں پھر آنا۔وہ بدوی تھا اور تہذیب اور شائستگی کے اصول سے ناواقف تھا اُس نے کہا آخر آپ انسان ہیں اگر میں پھر آؤں اور آپ اُس وقت فوت ہو چکے ہوں تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر میں دنیا میں نہ ہوا تو ابوبکر کے پاس چلے جانا وہ تمہاری حاجت پوری کر دے گا۔اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اے عائشہ ! میں چاہتا تھا کہ ابوبکر کو اپنے بعد نا مزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سوا اور کسی پر راضی نہ ہونگے ۲۳ اس لئے میں کچھ نہیں کہتا۔غرض صحابہ یہ قدرتی طور پر سمجھتے ہیں کہ رسول کریم کے بعد ان میں سے اگر کسی کا درجہ ہے تو ابو بکر کا اور وہی آپ کا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔مکی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے انتظام کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔لیکن مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے