خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 198

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۸ جلد سوم کوئی خواہش پیدا ہو سکتی تھی تو یہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن مسلمانوں میں جو نہی بادشاہت قائم ہوئی اور ایک نیا نظام انہوں نے دیکھا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دیئے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے۔آپ کے بعد اسلام کا کیا حال ہوگا اور اس بارہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا اور اس کیلئے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کر سکتا ہے تو وہ ابوبکر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نظر اسی کی طرف اُٹھتی ہے اور وہ اسے سب دوسروں سے معزز سمجھتے ہیں۔پس اُس نے اپنی خیر اسی میں دیکھی کہ ان کو بدنام کر دیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے گرا دیا جائے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے بھی گرا دیا جائے۔اور اس بد نیتی کے پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر گندہ الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں اشارۃ بیان کیا گیا ہے اور حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کی اس میں یہ غرض تھی کہ اس طرح حضرت ابوبکر ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہو جائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خراب ہو جائیں گے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم ہونا اسے لابدی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امید میں تباہ ہو جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب صرف عبد اللہ بن ابی بن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا اور بعض لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی کہ میرے ساتھ ایک لاکھ سپاہی ہیں میں چاہتا ہوں کہ اپنی تمام جماعت کے ساتھ آپ کی بیعت کرلوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو تم بیعت کر لو۔وہ کہنے لگا میں