خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 195

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۵ جلد سوم بعض لوگوں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی تھی۔یا بعض لوگوں کی اغراض ان کو بد نام کرنے کے ساتھ وابستہ تھیں ورنہ خود حضرت عائشہ کی بدنامی سے کسی شخص کو کوئی دلچسپی نہ ہو سکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ آپ سے سوتوں کا تعلق ہو سکتا تھا اور یہ خیال ہوسکتا تھا کہ شاید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے حضرت عائشہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں گرانے اور اپنی نیک نامی چاہنے کیلئے اس معاملہ میں کوئی حصہ لیا ہو۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے اس معاملہ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔بلکہ حضرت عائشہ کا اپنا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے جس بیوی کو میں اپنا رقیب اور مد مقابل خیال کرتی تھی وہ حضرت زینب تھیں۔ان کے علاوہ اور کسی بیوی کو میں اپنا رقیب خیال نہیں کرتی تھی مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں زینب کے اس احسان کو کبھی نہیں بھول سکتی کہ جب مجھ پر الزام لگایا گیا تو سب سے زیادہ زور سے اگر کوئی اس الزام کا انکار کیا کرتی تھیں تو وہ حضرت زینب ہی تھیں۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اگر کسی کو دشمنی ہو سکتی تھی تو وہ ان کی سوتوں کو ہی ہو سکتی تھی۔اور وہ اگر چاہتیں تو اس میں حصہ لے سکتی تھیں تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کی عزت بڑھ جائے۔مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں دخل ہی نہیں دیا۔اور اگر کسی سے پوچھا گیا تو اُس نے حضرت عائشہ کی تعریف ہی کی۔چنانچہ ایک اور بیوی کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے اِس معاملہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو سوائے خیر کے عائشہ میں کوئی چیز نہیں دیکھی۔تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی دشمنی نکالنے کا امکان اگر کسی کی طرف سے ہوسکتا تھا تو ان کی سوتوں کی طرف سے مگر ان کا اس معاملہ میں کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔اسی طرح مردوں کی عورتوں سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس آپ پر الزام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا یا حضرت ابو بکر سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ