خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 7

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم خلفاء کی سچے دل سے اطاعت کرو ( فرمود ه ۲۹ جون ۱۹۱۷ء ) تشہد وتعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقُولُوارًا عنا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا، وَلِلْكَفِرِينَ عذاب اليمن مايود الّذينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الكِتُبِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزِّل عَلَيْكُمْ مِّن خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ، وَاللهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ فرمایا:۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کلام اور اپنی تحریر پر قابو نہیں رکھتے۔حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ صوفیاء کا قول ہے۔الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَبٌ “ تو جب تک انسان اپنے قول اور تحریر پر قابونہیں رکھتا اور نہیں جانتا کہ اس کی زبان اور قلم سے کیا نکل رہا ہے وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں وہ تو حیوان سے بھی بدتر ہے کیونکہ جانور بھی خطرہ کی جگہوں سے بچتا ہے۔لیکن انسان مال اندیشی سے ہرگز کام نہیں لیتا۔جانور کو کسی خطرہ کی جگہ مثلاً غار کی طرف کھینچیں تو وہ ہرگز ادھر نہیں جائیگا۔مولوی رومی صاحب نے اپنی مثنوی میں ایک مثال لکھی ہے۔کہ ایک چوہا ایک اونٹ کو جس طرف وہ اونٹ جار ہا تھا ادھر ہی اس کی نکیل پکڑ کر لے چلا لیکن جب راستہ میں ندی آئی تو اونٹ نے اپنا رخ پھیر لیا اور چوہا ادھر گھٹتا ہوا چلنے لگا جدھر اونٹ جارہا تھا تو ایک چوہا بھی ایک اونٹ کو جہاں خطرہ نہ ہو لے جا سکتا ہے مگر جہاں خطرہ ہو وہاں چوہا تو کیا ایک طاقتور آدمی بھی اونٹ کو نہیں لے جاسکتا۔