خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 6

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم لفظ آیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک پیشگوئی ہے کہ اگر ایمان معلق بالثریا ہوگا تو ابناء فارس میں سے بعض رجال ایمان کو لائیں گے۔تو اب ضروری ہے کہ ابناء فارس یعنی حضرت کے خاندان سے ہوں اور اگر کسی دوسرے خاندان سے ہوں تو وہ ابناء فارس سے نہیں کہلا سکتے۔اور پھر یہ پیشگوئی غلط ہو جاتی ہے۔رَجُلٌ مِنْ فَارِسُ نے بتایا اصل بانی سلسلہ ایک ہی ہے مگر رجال نے بتا دیا کہ اس کے مُمد و معاون اور بھی ابناء فارس سے ہوں گے۔غرض میرا کام فساد کو بڑھانا نہیں۔کسی انسان کے بنانے سے کچھ نہیں بن سکتا۔چونکہ اس وقت دنیا میں شرک حد سے بڑھ چکا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک کمزور انسان کو کھڑا کر کے بتا دیا کہ کسی کام کا کرنا میرے ہاتھ میں ہے۔جب خدا نے مجھے پکڑ کر کھڑا کر دیا تو میرا اس میں کیا دخل ہے۔میرے مخالفوں کو علم میں ، تجربہ میں ، جذبات میں مجھ سے بڑے ہونے کا دعویٰ ہے مگر خدا نے سب سے کمزور سے کام لیا۔میں تو اپنی حیثیت کو کچھ نہیں سمجھتا۔خدا یہ بتانا چاہتا ہے کہ میں کمزور سے کمزور کو بڑی طاقت دے سکتا ہوں۔خلافت سے پہلے میں نے رویا میں دیکھا کہ میرا ایک ہم جماعت ہے وہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیکچر کے خلاف لیکچر دوں گا تو میں نے اس سے کہا کہ اگر تم میرے خلاف لیکچر دو گے اور مجھ پر سچا الزام بھی لگاؤ گے تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔پس یا د رکھو خدا کے کاموں کو کوئی روک نہیں سکتا۔خدا تمہیں ان باتوں کی سمجھ دے۔آمین۔الفلق : ۲ تا آخر ( خطبات محمود جلد ۴ صفحه ۴۲۰ تا ۴۲۴ ) الغاشية: ٢٣ بخاری کتاب الاحكام باب موعظة الامام للخصوم صفحہ ۱۲۳۴ حدیث نمبر ۷۱۶۹ مطبوع رياض ١٩٩٩ء الطبعة الثانية المعجم الكبير للحافظ ابی القاسم سلمان بن احمد الطبرانی جلد ۱۸ صفحه ۳۵۵ مكتبه ابن تیمیہ قاہرہ ۱۳۹۷ھ