خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 8

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم یا شکرے اور باز جس وقت آتے ہیں تو جانور درختوں میں اس طرح دبک کر بیٹھتے ہیں گویا وہاں کوئی جانور ہے ہی نہیں مگر انسانوں میں ایک ایسی جماعت ہے جو بات کہتی ہے اور نہیں سمجھتی کہ اس کا کیا مطلب ہے حالانکہ اکثر اوقات ذراسی غلطی خطرناک نتائج پیدا کر دیا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے مومنو! دو معنی والے لفظ رسول کے مقابلہ میں استعمال نہ کرو۔ورنہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مومن تھے اس لئے فرمایا کہ تمہار ایمان ضائع ہو جائے گا۔فرمایا کہ تم اگر چہ اس وقت مومن ہو لیکن اگر تم نے اپنی زبانوں پر قابو نہ رکھا تو یا درکھو کہ ہم تمہیں کا فر بنا کے دُکھ کے عذاب میں مبتلا کر کے ماریں گے مومن سے شروع کیا لیکن اس غلطی کے باعث کفر پر انجام ہوا۔پس انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول کا نگران ہو۔ورنہ ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ زبان سے تو اقرار کرتے ہیں اور تحریر و تقریر میں خلیفة امسیح خلیفہ امسیح کہتے ہیں مگر جو حق اطاعت ہے اس سے بہت دور ہیں زبانی خلیفہ امسیح کہنا یا لکھنا کیا کچھ حقیقت رکھتا ہے؟ شیعوں نے لفظ خلیفہ کے استخفاف اور ہنسی کے لئے نائیوں اور درزیوں تک کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا۔لیکن کیا خلفاء ان لوگوں کی ہنسی سے ذلیل ہو گئے ہر گز نہیں۔لوگوں نے اس لفظ خلیفہ کو معمولی سمجھا ہے۔مگر خدا کے نزدیک معمولی نہیں۔خدا نے ان کو بزرگی دی ہے اور کہا ہے کہ میں خلیفہ بنا تا ہوں اور پھر فرمایا ومن كفر بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الفسقون ان خلفاء کے انکار کا نام فسق ہے جوانکا انکار کرے گا وہ میری اطاعت سے باہر ہو گیا۔پس لفظ خلیفہ کچھ نہیں لوگ نائی کو بھی خلیفہ کہتے ہیں۔مگر وہ خلفاء جو خدا کے مامورین کے جانشین ہوتے ہیں ان کا انکار اور ان پر ہنسی کوئی معمولی بات نہیں وہ مومن کو بھی فاسق بنا دیتی ہے۔پس یہ مت سمجھو کہ تمہارا اپنی زبانوں اور تحریروں کو قابو میں نہ رکھنا اچھے نتائج پیدا کرے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو اپنی جماعت سے علیحد ہ کر دوں گا۔فاسق کے معنی ہیں کہ خدا سے کوئی تعلق نہیں۔اس کو خوب یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ا نتظام ہو جو شخص اس کی قدر نہیں کرے گا اور اس انتظام پر خواہ مخواہ اعتراضات کرے گا خواہ وہ