خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 102

خلافة على منهاج النبوة ۱۰۲ جلد سوم ہے۔حالانکہ ان لوگوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ ہماری حرکات سے اگر سلسلہ کیلئے مشکلات پیش آئیں گی اور سلسلہ کا روپیہ خرچ ہو گا تو اس کا کون ذمہ وار ہوگا۔اور پھر جب بعض حالات میں مقدمات چلائے گئے تو کیوں یہ لوگ گھبرا گھبرا کر اچھے سے اچھے وکیلوں اور اچھے سے اچھے سامانوں کے طالب ہوئے۔جن لوگوں کے افعال کی وجہ سے یہ صورتِ حالات پیدا ہوئی تھی انہیں چاہئے تھا کہ یا وہ خود مقدمہ چلاتے یا کانگرس والوں کی طرح ڈیفنس پیش کرنے سے انکار کر دیتے اور قید ہو جاتے۔مگر انہیں شرم نہیں آتی کہ کہتے تو وہ یہ تھے کہ ہم سلسلہ کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے مگر جماعت کا پندرہ بیس ہزار روپیہ انہوں نے مقدمات پر خرچ کر دیا اور پھر بھی وہ مخلص کے مخلص بنے ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کے کھانوں اور سفر خرچ کے بل جا کر دیکھو تو تم کو تعجب ہو گا کہ یہ کیا ہوا ہے۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ دشمن جھوٹ بول رہا تھا اور سلسلہ کو بدنام کرنے کیلئے جھوٹے مقدمات کر رہا تھا۔ہم ان کی مدد کیلئے مجبور تھے گوہم جانتے تھے کہ بعض جگہ دشمن کو موقع دینے والے خود ہمارے اپنے آدمی تھے۔اگر ہمارے آدمی میری تلقین کے مطابق صبر سے کام لیتے اور گالی کا جواب نہ دیتے تو اتنا فتنہ نہ بڑھتا۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے لڑائی کرنا دین کیلئے ضروری ہی سمجھا تھا تو ان کا فرض تھا کہ یا مقدمہ کے تمام اخراجات خود برداشت کرتے اور کہتے کہ ہماری جماعت کی مالی حالت کمزور ہے ، ہم اس پر اپنا بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اور یا جواب دعوئی سے دستبردار ہو کر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتے۔مگر یہ جماعت کا تمہیں چالیس ہزار روپیہ خرچ کرا دینے کے باوجود مخلص کے مخلص بنے پھرتے ہیں ( میں سب مقدمات کے بارہ میں نہیں کہتا۔بعض مقدمات سلسلہ کی ضروریات کیلئے خود کئے گئے ہیں اور نہ سب آدمیوں کے متعلق کہتا ہوں جو ان میں مبتلا تھے۔مگر چونکہ اصل لوگوں کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا میں نے بات کو عام رکھا ہے تاکسی خاص شخص پر الزام نہ آئے اور اس نوٹ کے ذریعہ سے میں نے اس کا بھی ازالہ کر دیا ہے کہ نا کردہ گناہ لوگوں پر کوئی بدظنی کرے )۔میں پوچھتا ہوں بھلا گالیاں دینے یا بے فائدہ جوش دکھانے میں کونسی خوبی اور کمال ہے۔کیا موچی دروازہ کے غنڈے گالیاں نہیں دیتے ؟ اگر تم بھی دشمن کے جواب میں زبان