خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 101
خلافة على منهاج النبوة 1+1 جلد سوم کے ذرائع تمہیں حاصل ہیں تو کم سے کم اتنی بات تو تمہیں سمجھ لینی چاہئے تھی کہ کیوں بلا وجہ ایک وقت مسلمانوں کو جوش آتا ہے تو دوسرے وقت پولیس والوں کو کبھی سکھوں کو جوش آجاتا ہے تو کبھی ہندوؤں کو۔کم سے کم اتنی موٹی بات تمہیں سمجھ لینی چاہئے تھی کہ یہ تغیرات جو پیدا ہوئے ان کا کوئی نہ کوئی سبب ہوگا ورنہ بلا سبب تو یہ نہیں ہو سکتے اور جب یہ بلا سبب نہیں ہو سکتے اور تمہیں ان کا سبب معلوم نہیں تو تم کیوں اندھیرے میں چھلانگ لگاتے اور سلسلہ کی بدنامی اور ہتک کا موجب بنتے ہو۔یہ معاملات اُن لوگوں کے ہاتھ میں چھوڑ دو جو اِن تغیرات کا سبب جانتے اور اس کی وجہ کو خوب پہچانتے ہیں۔وہ جب دیکھیں گے کہ سلسلہ کی عظمت لڑائی کرنے میں ہے تو اُس وقت وہ بغیر کسی قسم کے خطرہ کے لڑائی کریں گے اور اُس وقت تم میں سے وہ لوگ جو اس وقت بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے اور کہتے ہیں ہم صبر نہیں کر سکتے ، ہم دشمن سے لڑیں گے اور مر جائیں گے وہ لڑائی کرنے سے انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم ہلاکت کے منہ میں اپنے آپ کو نہیں ڈال سکتے۔گویا جس وقت ہم کہتے ہیں ہمیں صلح رکھنی چاہئے اور بلا وجہ دشمن سے لڑائی نہیں لڑنی چاہئے اُس وقت وہ بزدل اور منافق جو اگرلڑائی ہو تو سب سے پہلے میدانِ جنگ سے بھاگ نکلیں گے کہتے ہیں ہم بے غیرت نہیں ، ہم دشمن سے ضرور لڑیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں اب کسی نے لڑنا نہیں اور جب لڑائی ضروری ہو جائے تو کہہ دیتے ہیں صلح رکھنی چاہئے ، آپس کے تعلقات کو خراب کر لینے سے کیا فائدہ۔آخر کیا تم خیال کرتے ہو کہ ایک شخص کے ہاتھ پر تم بیعت کرتے ہو اور پھر یہ مجھتے ہو کہ اس کے دل میں سلسلہ کے متعلق اتنی بھی غیرت نہیں جتنی تمہارے دلوں میں ہے۔حالانکہ اس نے اپنی غیرت کا عملی ثبوت بھی تمہارے سامنے پیش کیا ہوا ہے۔میں ہمیشہ اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ جماعت کا بیشتر حصہ سچے مخلصوں اور باتیں بنانے والوں میں فرق کیوں نہیں کرتا۔گزشتہ دو سال میں تم نے دیکھ لیا کہ وہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کر نیوالے تھے جب اُن پر مقدمے ہوئے تو انہوں نے کیسی بزدلی اور دوں ہمتی دکھائی۔جماعت کا ان مقدموں اور سیاسی شرارتوں کے مقابلہ کیلئے تھیں چالیس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ خرچ ہو چکا