خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 103
خلافة على منهاج النبوة ۱۰۳ جلد سوم سے گالیاں دیتے چلے جاتے ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جائے گا کہ تم نے وہ کام کیا جو حق کے دشمن کر رہے ہیں مگر تمہاری اس حرکت کو قربانی قرار نہیں دیا جائے گا۔قربانی وہ ہوتی ہے جسے عام آدمی پیش نہ کر سکے۔مگر تقریر کیلئے کھڑے ہو جانا اور اس میں پندرہ بیس گالیاں دے دینا یہ تو ہر شخص کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔پس صرف اس لئے کہ کوئی شخص بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہے مخلص اور مومن نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ مخلص وہ ہے جو اس چیز کو پیش کرے جسے عام لوگ پیش کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔تم چلے جاؤ لا ہور میں یا اور کسی شہر میں اور چلے جاؤ بداخلاق نمائندگان مذاہب کی مجالس میں تمہیں یہی نظر آئے گا کہ جو شیلے اور فسادی لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے ، پتھر پھینکتے اور تالیاں پیٹتے ہیں۔مگر مخلص وہ قربانی کرتے ہیں جو دوسرے نہیں کرتے۔لا ہور میں ہی جب کوئی فساد ہو ، کمزور اخلاق کے لوگ ہمیشہ بڑھ بڑھ کر لاٹھی چلائیں گے۔لیکن جب اسلام کیلئے مال کی قربانی کا سوال ہو تو پیچھے ہٹ جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ ہم گالیاں دیں، لٹھ ماریں اور پھر پلاؤ زردہ کھا ئیں۔پس گالیاں دینا تو کمزور طبع لوگوں کا کام ہے کامل مومنوں والا کام نہیں اور اگر واقعہ میں ان میں اخلاص ہوتا تو جن لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا تھا وہ کہتے ہم جماعت کا ایک پیسہ بھی اس پر خرچ نہیں ہونے دیں گے ہم نے اپنی ذمہ داری سے کام کیا ہے اور اب اس بوجھ کو بھی یا خود برداشت کریں گے یا برداشت نہ کر سکنے کی صورت میں قید ہو جائیں گے۔جماعت کے پاس آگے ہی روپیہ کونسا زیادہ ہے ہم اس پر مزید اپنے مقدمات کا بوجھ کیوں ڈالیں۔کیا یہ اتنی موٹی بات نہیں جو تمہاری سمجھ میں آسکے۔تو تمہیں چاہئے کہ تم مخلص اور کمزور طبع انسانوں میں فرق کرو۔میں انہیں منافق نہیں کہتا۔بعض کمزور طبائع ہوتی ہیں ان کا دل ایسا کمزور ہوتا ہے کہ وہ نتائج کی برداشت نہیں کر سکتے۔ہوتے مومن ہی ہیں مگر دل کی کمزوری کی وجہ سے نتائج برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔یہی حال ان لوگوں کا ہے انہوں نے بھی بڑھ بڑھ کر باتیں کیں اور جماعت کو مزید مشکلات میں مبتلا کرا دیا اور جب کبھی ان کی مدافعت کی غلط تدبیروں سے فساد اور بڑھ گیا اور اس کے نتائج کو برداشت کرنے کا وقت آیا تو کمزوری دکھا دی اور مقدمہ لڑ کر اس امر کی کوشش شروع کر دی کہ ان کی بریت ہو جائے۔حالانکہ اگر