خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 64

خلافة على منهاج النبوة ۶۴ جلد دوم سامنے آسمانی شریعت پیش کی اور کہا کہ میرے خدا نے تمہارے لئے یہ تعلیم مقرر کی ہے تم اس پر عمل کرو اور پھر اس پر ان سے عمل کرایا بھی۔اگر تو قرآن جو آسمانی صحیفہ ہے صرف نماز روزہ کے احکام پر اور بعض عقائد کے بیان پر اکتفاء کرتا اور احکام سیاست و تد بیر مُلکی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے تو خواہ وہ زور سے ان کی پا بندی کراتے کوئی کہہ سکتا تھا کہ عربوں نے مسلمانوں پر ظالمانہ حملہ کر کے اپنی حکومت تباہ کر لی اور ملک بغیر نظام اور قانون کے رہ گیا۔اس مشکل کی وجہ سے وقت کی ضرورت سے مجبور ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک کو ابتری سے بچانے کیلئے کچھ قانون تجویز کر دیئے اور ان پر لوگوں سے عمل کرایا اور یہ حصہ آپ کے عمل کا مذہب نہ تھا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان امور کے متعلق بھی تفصیلی احکام قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ صرف احکام موجود ہیں بلکہ ان کے نفاذ کے متعلق بھی احکام ہیں۔مثلاً (۱) اللہ تعالیٰ سورہ حشر میں فرماتا ہے۔ما الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُواك یعنی اے مسلمانو ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس بات سے وہ تمہیں روکیں اُس سے رُک جاؤ۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مسلمانوں کیلئے ا ہر حالت میں ماننا ضروری ہے۔(۲) دوسری جگہ فرماتا ہے۔ت فلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا يَمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا یعنی تیرے رب کی قسم ! جب تک وہ ہر اُس بات میں جس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے وہ اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ہو جائیں اُس وقت تک وہ ہرگز ایماندار نہیں ہو سکتے۔بعض لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا کرتے تھے بلکہ اس زمانہ میں بھی ایسے معترض موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوذُ بِالله یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ باہمی جھگڑوں کے نپٹانے اور نظام کو قائم رکھنے کے متعلق کوئی ہدایات دے