خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 65

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم سکیں۔مگر فرمایا۔ہم ان کی اس بات کو غلط قرار دیتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ فلا وربك لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ یہ کبھی مومن نہیں وَرَبِّكَ صلى الله کہلا سکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں میں اے محمد رسول اللہ ﷺ ! تجھے حکم تسلیم نہ کریں اور پھر تیری قضاء پر وہ دل و جان سے راضی نہ ہوں۔اس آیت کریمہ میں دو نہایت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ خدا تعالیٰ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو آخری قاضی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کا جو فیصلہ بھی ہو گا وہ آخری ہوگا اور اس پر کسی اور کے پاس کسی کو اپیل کا حق حاصل نہیں ہو گا اور آخری فیصلہ کا حق رسول کریم ﷺ کو دینا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکومت کے اختیارات حاصل تھے۔دوسری بات جو اس سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان فیصلوں کے تسلیم کرنے کو ایمان کا جزو قرار دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ تیرے رب کی قسم ! وہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک وہ تیرے فیصلوں کو تسلیم نہ کریں۔گویا یہ بھی دین کا ایک حصہ ہے اور ویسا ہی حصہ ہے جیسے نماز دین کا حصہ ہے، جیسے روزہ دین کا حصہ ہے، جیسے حج اور زکوۃ دین کا حصہ ہے۔فرض کرو زید اور بکر کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے میں نے دوسرے سے دس روپے لینے ہیں اور دوسرا کہتا ہے میں نے کوئی روپیہ نہیں دینا۔دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتے ہیں اور اپنے جھگڑے کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کے حق میں فیصلہ کر دیتے ہیں تو دوسرا اس فیصلے کو اگر نہیں مانتا تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ مومن نہیں رہا۔پس با وجود یکہ وہ نماز پڑھتا ہوگا ، وہ روزے رکھتا ہو گا ، وہ حج کرتا ہوگا ، اگر وہ اس حصہ میں آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اس کے متعلق یہی ہے کہ اس انکار کے بعد وہ مومن نہیں رہا۔پس لا يُؤْمِنُونَ کے الفاظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے اس حصہ کو بھی دین کا ایک جزو قرار دیا ہے علیحدہ نہیں رکھا۔(۳) تیسری جگہ فرماتا ہے اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ