خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 63

خلافة على منهاج النبوة ۶۳ جلد دوم حکومت کے تمام شعبوں کے غرض جبکہ اسلام نے حکومت کے تمام شعبوں کے متعلق تفصیلی ہدایات دے دی ہیں تو کوئی شخص متعلق اسلام کی جامع ہدایات نہیں کہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ۔ہر قوم اور ہر ملک اپنے لئے کوئی مناسب طریق تجویز کرنے میں آزاد ہے۔ہاں وہ یہ بحث ضرور کر سکتا ہے کہ کسی خاص امر میں شریعت اسلامیہ نے اسے آزاد چھوڑ دیا ہے مگر یہ بات بالکل خلاف عقل ہوگی کہ اسلام نے چھوٹے چھوٹے حقوق تو بیان کئے لیکن سب سے بڑا حق کہ فرد کو حکومت کے مقابل پر کیا حقوق حاصل ہیں اور حکومت کو کس شکل اور کس صورت سے افراد میں احکام الہیہ کو جاری کرنا چاہئے اس اہم ترین سوال کو اس نے بالکل نظر انداز کر دیا۔اگر ہم یہ کہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب ناقص ہے۔جو مذہب شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے وہ تو کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں میرے دائرہ سے باہر ہیں اور اس مذہب کو ناقص بھی ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ اس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق روشن ہدایات نہیں دیں۔مثلاً ایسا مذہب اگر خدا اور بندے کے تعلق پر بحث نہیں کرتا یا یہ نہیں بتاتا کہ بندوں کا بندوں سے کیسا تعلق ہونا چاہئے یا امور مملکت اور سیاست کے متعلق کوئی ہدایت نہیں دیتا تو وہ آسانی سے چھٹکارا پا جاتا ہے کیونکہ وہ شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے لیکن جو مذہب ان امور میں دخل دیتا ہے اور اس امر کو مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان امور میں دخل دے اس کا ایسے اہم مسئلہ کو چھوڑ دینا اور لاکھوں کروڑوں آدمیوں کی جانوں کو خطرہ میں ڈال دینا یقیناً ایک بھول اور نقص کہلائے گا۔نفاذ قانون کے متعلق تفصیلی ہدایات اس تمہید کے بعد میں اب اصل سوال کی طرف آتا ہوں۔رسول کریم عرب میں مبعوث ہوئے اور عرب کا کوئی تحریر شدہ قانون نہ تھا۔قبائلی رواج ہی ان میں قانون کا مرتبہ رکھتا تھا۔چنانچہ کسی قبیلہ میں کوئی قانون تھا اور کسی قبیلہ میں کوئی۔وہ انہی قبائلی رواج کے مطابق آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ کر لیتے یا جب انہوں نے کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو معاہدہ کر لیتے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے