خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 52

خلافة على منهاج النبوة ۵۲ جلد دوم بھی جاری کرتے تھے، وہ قصاص بھی لیتے تھے ، وہ لوگوں کو عہدوں پر بھی مقرر کرتے تھے ، وہ وظائف بھی تقسیم کرتے تھے ، اسی طرح نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کی ادائیگی بھی ان میں جاری تھی گویا ابتدائے اسلام میں دونوں قسم کے نظام جمع ہو گئے تھے۔پس اگر کوئی نظام اسلام سے ثابت نہیں تو خلافتِ مذہبی کی ابتداء بھی صرف اُس وقت کے مسلمانوں کا ایک وقتی فیصلہ قرار دیا جائے گا اور اس سے آئندہ کیلئے کوئی استدلال کرنا اور سند پکڑنا درست نہ ہوگا۔اور جب خلافت کا وجو د ابتدائے اسلام میں ہی ثابت نہ ہوگا تو بعد میں کسی وقت اس کے وجود کو قائم کرنا کوئی مذہبی مسئلہ نہیں کہلا سکتا۔پس اگر خلافت کے مسئلہ پر کوئی زد آئے گی تو یہ تو نہیں ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ صرف ترکوں کی خلافت نا جائز ہے بلکہ وہ سرے سے خلافت کا ہی انکار کر دیں گے اور اس طرح ہم پر بھی جو مسئلہ خلافت کے قائل ہیں اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جیسے اگر ہندوؤں اور عیسائیوں پر کوئی ایسا اعتراض کیا جائے جو اسلام پر بھی وارد ہوتا ہو تو یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ اس سے ہندوؤں اور عیسائیوں کو ہی نقصان پہنچتا ہے اسلام کو اس سے کیا ڈر ہے کیونکہ اگر وہی بات اسلام میں بھی پائی جاتی ہے تو ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس اعتراض کا ازالہ کریں کیونکہ اگر لوگ اس کی وجہ سے مذہب سے بدظن ہونگے تو صرف ہندوؤں اور عیسائیوں سے ہی نہیں ہونگے بلکہ مسلمانوں سے بھی ہو نگے۔چوتھا جواب یہ ہے کہ ہم خلافتِ احمدیہ کے ثبوت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین کی مثال لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوئے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی خلافت کا وجو دضروری ہے۔اگر وہی خلافت اُڑ جائے تو لازماً خلافتِ احمد یہ بھی باطل ہو جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام کے قیام سے تعلق اس کے ساتھ ایک اور بات رکھنے والا حصہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی ؟ بھی یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اگر اس عقیدہ کو درست تسلیم کر لیا جائے جو علی بن عبدالرزاق نے لوگوں