خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 51
خلافة على منهاج النبوة ۵۱ جلد دوم کی غلطی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ سیاست صرف حکومت کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہے حالانکہ بغیر حکومت کے بھی سیاست ہوتی ہے اور بغیر حکومت کے بھی نظام کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تین شخص اکٹھے کہیں سفر پر جانے لگیں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنالیں کے تا کہ نماز کے وقت اُسے امام بنایا جاسکے اور سفر میں جو جو ضرورتیں پیش آئیں اُن کے بارہ میں اُس سے مشورہ لیا جا سکے۔اب یہ ایک نظام ہے مگر اس کا تعلق حکومت سے نہیں۔نظام در حقیقت ایک مستقل چیز ہے اگر حکومت شامل ہو تو اس پر بھی حاوی ہوتا ہے اور اگر نہ ہو تو باقی لوگوں کے لئے اُس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔پس مسئلہ خلافت ایک اسلامی نظام سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ پر مشتمل ہو یا نہ ہو۔سلطنت پر مذہبی خلافت پر اعتراض تیرا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی ثابت کر دے کہ اسلام نے کوئی خاص نظام پیش نہیں کیا تو اس کی زد خلافت سلطنت پر ہی نہیں پڑے گی بلکہ اُس خلافت پر بھی پڑے گی جو ہم پیش کرتے ہیں گویا خلافت سلطنت اور خالص مذہبی نظام دونوں یکساں اس کی زد میں آئیں گے۔پس گو وہ دلائل ترکی خلافت کے خلاف پیش کئے گئے ہیں لیکن چونکہ وہ احمد یہ خلافت پر بھی اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں جس طرح خلافت سلطنت پر ، اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان دلائل کا جائزہ لیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر اسلام نے کوئی معین نظام پیش نہیں کیا تو جس طرح نظام سلطنت میں مسلمان آزاد ہو نگے اسی طرح خالص نظام مذہبی میں بھی وہ آزاد سمجھے جائیں گے اور انہیں اختیار ہو گا کہ ہر زمانہ اور ہر ملک میں وہ جس طرح چاہیں اور جس شکل میں چاہیں ایک نظام اپنے لئے تجویز کر لیں۔ابتدائے اسلام میں نظام مملکت اس سوال کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں نظام مملکت اور نظام دینی کا اجتماع اور نظام دینی اکٹھے تھے۔یعنی مذہب کا نظام تو تھا ہی مگر اس کے ساتھ ہی وہ فوجیں بھی رکھتے تھے ، اُن میں قاضی بھی موجود تھے ، وہ حدود