خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 53

خلافة على منهاج النبوة ۵۳ جلد دوم کے سامنے پیش کیا ہے اور جسے غیر مبائعین بھی پیش کرتے ہیں تو اس سے ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ آیا رسول کریم علیہ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی۔کیونکہ جب ہم یہ فیصلہ کر دیں کہ اسلام کوئی معتین نظام پیش نہیں کرتا بلکہ حضرت ابو بکر ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، اور حضرت علیؓ کی خلافت مسلمانوں کا ایک وقتی فیصلہ تھا اور وہ نظام مملکت کے استحکام کیلئے جو کام کرتے تھے وہ محض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں کرتے تھے تو طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے قیام سے تعلق رکھتے تھے وہ محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ سے صادر ہوتے تھے یا اسے کوئی مذہبی تائید بھی حاصل تھی۔اگر وہ وقتی ضرورت کے ماتحت تھے تو حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ نے آپ کے تتبع میں جو کچھ بھی کیا ہوگا وقتی ضرورت کے ماتحت کیا ہوگا اور وہ ہمارے لئے مجت شرعی نہیں ہوگا اور اگر رسول کریم ﷺ کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مذہبی حیثیت رکھتے تھے تو لازماً ہمیں ان سے سند لینی پڑے گی۔پس یہ سوال صرف خلفاء تک محدود نہیں رہتا بلکہ رسول کریم ﷺ تک بھی جا پہنچتا ہے کہ اگر نظام خلافت کا اصول مذہبی نہیں تو چونکہ یہ نقل ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی اس لئے ان کے وہ اعمال بھی مذہبی نہیں ہوں گے جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے لئے ان کی اتباع ضروری نہیں ہو گی جیسے کپڑوں اور کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق کوئی نہیں کہتا کہ صلى الله رسول کریم ﷺ نے فلاں قسم کے کپڑے پہنے یا فلاں کھانا کھایا اس لئے لازماً وہی کپڑا پہنا اور وہی کھانا کھانا چاہئے۔مثلاً کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریم ، چونکہ تہ بند باندھا کرتے تھے اس لئے تم بھی نہ بند باندھو یا رسول کریم لے چونکہ کھجور میں کھایا کرتے تھے اس لئے تم بھی کھجوریں کھاؤ بلکہ اس سے اصولی رنگ میں ایک نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان صلى الله صلى الله کو سادہ زندگی بسر کرنی چاہئے۔اسی طرح اگر رسول کریم علیہ کے ان اعمال کو جو نظام کے قیام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شرعی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ضرورتِ زمانہ کے ماتحت قرار دیا جائے گا تو وہ ہمارے لئے حجت نہیں ہوں گے اور ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہ سکیں گے کہ