خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 50
خلافة على منهاج النبوة ۵۰ جلد دوم نے بھی لکھے ہیں اور بعض روسیوں نے بھی لکھے ہیں مگر اس خیال کو ایک مدلل صورت میں ایک مصری عالم علی بن عبد الرزاق نے جو جامعہ ازہر کے علماء میں سے ہیں اور محاکم شرعیہ کے قاضی ہیں اپنی کتاب "الإسلام و أصول الحكم" میں پیش کیا ہے اور اس کا محرک جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ شدید اضطراب ہوا جو تر کی خلافت کی منسوخی سے عالم اسلامی میں عموماً اور عربی ممالک میں خصوصاً پیدا ہوا تھا۔شاید کہا جائے کہ اس بحث کا اس خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ایک سوال کا جواب ہے جو اصل مبحث میرے مضمون کا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ خلافت جو اس کتاب میں زیر بحث ہے خلافتِ سلطنت ہے اور احمد یہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے ترک بادشاہ ہیں اور احمدی بادشاہ نہیں۔پس ترکوں کی خلافت کی تائید میں جو دلائل ہونگے وہ اور رنگ کے ہونگے اور ان کی خلافت کی تردید میں جو دلائل ہونگے وہ بھی اور رنگ کے ہونگے۔بھلا اس خلافت کا خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے جسے کسی قسم کی بادشاہت حاصل نہیں اور جس کی خلافت محض مذہبی رنگ رکھتی ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلہ پر بحث کی جاتی ہے ضروری نہیں ہوتا کہ اُس کے صرف اُس پہلو پر روشنی ڈالی جائے جس کے متعلق کوئی سوال کرے بلکہ بسا اوقات اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے اور یہ کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں ہوتا۔مثلاً ہم سے کوئی پوچھے کہ وضو میں ہاتھ کس طرح دھوئے جاتے ہیں تو اس کے جواب میں اگر ہم وضو کی تمام تفصیل اس کو بتا دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مفید ہوگا کیونکہ وہ باقی باتیں بھی سمجھ جائے گا۔اسی طرح گو احمد یہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے لیکن اگر خلافت سلطنت کے متعلق بھی بحث کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس مضمون کی تکمیل کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوگا۔سیاست صرف حکومت دوسرا جواب یہ ہے کہ در حقیقت سیاست نظام کا دوسرا نام کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی ہے اور یہ سیاست حکومت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے اور حکومت کے بغیر بھی سیاست ہوتی ہے۔یہ لوگوں