خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 35

خلافة على منهاج النبوة ۳۵ جلد دوم۔آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب ہمارے نانا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت کی کہ آپ کو پتہ ہی نہیں یہ لڑکا کیسا نا لائق ہے پڑھتا لکھتا کچھ نہیں اس کا خط کیسا خراب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا۔میں ڈرتا اور کانپتا ہوا گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا فرمائیں گے۔آپ نے مجھے ایک خط دیا کہ اسے نقل کرو۔میں نے وہ نقل کر کے دیا تو آ نے حضرت خلیفہ اول کو جج کے طور پر بلایا اور فرمایا۔میر صاحب نے شکایت کی ہے کہ یہ پڑھتا لکھتا نہیں اور کہ اس کا خط بہت خراب ہے۔میں نے اس کا امتحان لیا ہے آپ بتائیں کیا رائے ہے؟ لیکن جیسا امتحان لینے والا نرم دل تھا ویسا ہی پاس کرنے والا بھی تھا۔حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا کہ حضور! میرے خیال میں تو اچھا لکھا ہے۔حضور نے فرمایا۔کہ ہاں اس کا خط کچھ میرے خط سے ملتا جلتا ہی ہے اور بس ہم پاس ہو گئے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب جو اب پیغامیوں میں شامل ہیں ہمارے اُستاد تھے اور حساب پڑھایا کرتے تھے جس سے مجھے نفرت تھی۔میری دماغی کیفیت کچھ ایسی تھی جو غالباً میری صحت کی خرابی کا نتیجہ تھا کہ مجھے حساب نہیں آتا تھا ورنہ اب تو اچھا آتا ہے۔ماسٹر صاحب ایک دن بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں تمہاری شکایت کروں گا کہ تم حساب نہیں پڑھتے اور جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہہ بھی دیا۔میں بھی چُپ کر کے کمرہ میں کھڑا رہا۔حضور نے ماسٹر صاحب کی شکایت سُن کر فرمایا کہ اس نے دین کا کام ہی کرنا ہے اس نے کونسی کسی دفتر میں نوکری کرنی ہے۔مسلمانوں کے لئے جمع تفریق کا جانا ہی کافی ہے وہ اسے آتا ہے یا نہیں ؟ ماسٹر صاحب نے کہا وہ تو آتا ہے۔اس سے پہلے تو میں حساب کی گھنٹیوں میں بیٹھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا مگر اس کے بعد میں نے وہ بھی چھوڑ دیا اور خیال کر لیا کہ حساب جتنا آنا چاہئے تھا مجھے آ گیا تو یہ میری حالت تھی جب یہ آمیں لکھی گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ اسے دین کی خدمت کی توفیق عطا کر۔دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ سب بی۔اے اور ایم۔اے لائق نہیں ہوتے۔لیکن جو لوگ لائق ہوتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔سارے وکیل لائق نہیں ہوتے مگر جو ہوتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔سب ڈاکٹر خدا تعالیٰ کی صفت شافی کے مظہر نہیں ہوتے مگر