خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 36

خلافة على منهاج النبوة ۳۶ جلد دوم۔بہترین ڈاکٹر انہی میں سے ہوتے ہیں جنہوں نے ڈاکٹری کے امتحان پاس کئے ہوں۔ہر زمیندار مٹی سے سونا نہیں بنا سکتا مگر جو بناتے ہیں انہی میں سے ہی ہوتے ہیں تر کھانوں میں سے نہیں۔ہر ترکھان اچھی عمارت نہیں بنا سکتا مگر جو بناتے ہیں وہ تر کھانوں میں سے ہی ہوتے ہیں لوہاروں میں سے نہیں۔پھر ہر انجینئر ماہر فن نہیں مگر جو ہوتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ہر معمار دہلی اور لاہور کی شاہی مساجد اور تاج محل نہیں بنا سکتا مگر ان کے بنانے والے بھی معماروں میں سے ہی ہوتے ہیں کپڑا بننے والوں میں سے نہیں ہوتے۔پس ہرفن کا جاننے والا ماہر نہیں ہوتا مگر جو ماہر نکلتے ہیں وہ انہی میں سے ہوتے ہیں۔مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعا کی اُس وقت میں ظاہری حالات کے لحاظ سے اپنے اندر کوئی بھی اہلیت نہ رکھتا تھا لیکن اِس وقت اس آمین کوسُن کر میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دعائیں سن لیں۔جب یہ دعائیں کی گئیں میں معمولی ریڈریں بھی نہیں پڑھ سکتا تھا مگر آب خدا تعالیٰ کا ایسا فضل ہے کہ میں کسی علم کی کیوں نہ ہو انگریزی کی مشکل سے مشکل کتاب پڑھ سکتا ہوں اور سمجھ سکتا ہوں اور گو میں انگریزی لکھ نہیں سکتا مگر بی۔اے اور ایم۔اے پاس شدہ لوگوں کی غلطیاں خوب نکال لیتا ہوں۔دینی علوم میں میں نے قرآن کریم کا ترجمہ حضرت خلیفہ اول سے پڑھا ہے اور اس طرح پڑھا ہے کہ اور کوئی اس طرح پڑھے تو کچھ بھی نہ سیکھ سکے۔پہلے تو ایک ماہ میں آپ نے مجھے دو تین سیپارے آہستہ آہستہ پڑھائے اور پھر فرمایا میاں ! آپ بیمار رہتے ہیں میری اپنی صحت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔آؤ کیوں نہ ختم کر دیں اور مہینہ بھر میں سارا قرآن کریم مجھے ختم کرا دیا اور اللہ تعالیٰ کا فضل تھا پھر کچھ اُن کی نیت اور کچھ میری نیست ایسی مبارک گھڑی میں ملیں کہ وہ تعلیم ایک ایسا بیج ثابت ہوا جو برابر۔بڑھتا جا رہا ہے۔اس طرح بخاری آپ نے مجھے تین ماہ میں پڑھائی اور ایسی جلدی جلدی پڑھاتے کہ باہر کے بعض دوست کہتے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔میں اگر کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے پڑھتے جاؤ اللہ تعالیٰ خود سب کچھ سمجھا دے گا۔حافظ روشن علی مرحوم کو گرید نے کی بہت عادت تھی اور اُن کا دماغ بھی منطقی تھا۔وہ درس میں شامل تو نہیں تھے مگر جب مجھے پڑھتے دیکھا تو آ کر بیٹھنے لگے اور سوالات دریافت کرتے۔اُن کو دیکھ کر مجھے بھی جوش آیا اور میں