خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 34
خلافة على منهاج النبوة ۳۴ جلد دوم ایک قسم کا انقباض سا رہا ہے کہ میں نے اس کی اجازت کیوں دی اور اس کے متعلق سب سے پہلے انشراح صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون الفضل میں پڑھ کر ہوا جس میں لکھا تھا کہ اسوقت گویا ایک اور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کے بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے مجھے خود بھی اس خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔دوسرا انشراح مجھے اس وقت پیدا ہوا جب ڈرمشین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔اس کو سُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اس میں بیان کی گئی ہے اور اس کا منانا اس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری چھپیں سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نا مناسب نہیں اور اس خوشی میں میں بھی شریک ہو سکتا ہوں اور میں نے سمجھا کہ گواپنی ذات کے لئے اس کے منائے جانے کے متعلق مجھے انشراح نہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صلى الله پیشگوئی کے پورا ہونے کے لحاظ سے انشراح ہو گیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم و نے ایک مرتبہ ایک صحابی کے متعلق فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے اس کے ہاتھوں میں کسری کے کڑے ہیں۔چنانچہ جب ایران فتح ہوا اور وہ کڑے جو کسری دربار کے موقع پر پہنا کرتا تھا غنیمت میں آئے تو حضرت عمرؓ نے اس صحابی کو بلایا اور باوجود یکہ اسلام میں مردوں کیلئے سونا پہنا ممنوع ہے آپ نے اسے فرمایا کہ یہ کڑے پہنو۔حالانکہ خلفاء کا کام قیامِ شریعت ہوتا ہے نہ کہ اسے مٹانا مگر جب اس صحابی نے یہ کہا کہ سونا پہنا مردوں کے لئے جائز نہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ یہ پہنو۔ورنہ میں کوڑے لگاؤں گا۔اسی طرح میں نے یہ خیال کیا کہ گو یہ کڑے مجھے ہی پہنائے گئے ہیں مگر چونکہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے اس لئے اس کے منانے میں کوئی حرج نہیں اور اس لئے میرے دل میں جو انقباض تھا وہ دُور ہو گیا اور میری نظریں اس مجلس سے اُٹھ کر خدا تعالیٰ کی طرف چلی گئیں اور میں نے کہا ہما را خدا بھی کیسا سچا خدا ہے۔مجھے یاد آیا کہ جب یہ پیشگوئی کی گئی اُس وقت میری ہستی ہی کیا تھی پھر وہ نظارہ میری