خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 458
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۸ جلد دوم جائے گا اور جماعت اُس شخص کی بیعت کرے گی۔اس طرح وہ حکم بھی پورا ہو جائے گا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور وہ حکم بھی پورا ہو جائے گا کہ وہ ایسا مومنوں کے ہاتھ سے کرتا ہے۔در حقیقت خلافت کوئی ڈنڈے کے ساتھ تو ہوتی نہیں ، مرضی سے ہوتی ہے اگر تم لوگ ایک شخص کو دیکھو کہ وہ خلاف قانون خلیفہ بن گیا ہے اور اس کے ساتھ نہ ہو تو آپ ہی اس کو نہ آمدن ہوگی نہ کام کر سکے گا ختم ہو جائے گا۔اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ چیز اپنے اختیار میں رکھی ہے لیکن بندوں کے توسط سے رکھی ہے اگر صحیح انتخاب نہیں ہو گا تو تم لوگ کہو گے کہ ہم تو نہیں مانتے۔جو انتخاب کا طریق مقرر ہوا تھا اس پر عمل نہیں ہوا تو پھر وہ آپ ہی ہٹ جائے گا اور اگر خدا نے اُسے خلیفہ بنایا تو تم فوراً اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔جس طرح ۱۹۱۴ء میں رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے تھے اور جوق در جوق دوڑتے ہوئے اس کے پاس آؤ گے اور اس کی بیعتیں کرو گے۔مجھے صرف اتنا خیال ہے کہ شیطان کے لئے دروازہ نہ کھلا رہے۔اس وقت شیطان نے حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں کو چنا ہے، جس طرح آدم کے وقت میں اُس نے درخت حیات کو چنا تھا۔اُس وقت بھی شیطان نے کہا تھا کہ آدم ! میں تمہاری بھلائی کرنا چاہتا ہوں میں تم کو اس درخت سے کھانے کو کہتا ہوں کہ جس کے بعد تم کو وہ بادشاہت ملے گی جو کبھی خراب نہیں ہوگی اور ایسی زندگی ملے گی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔سواب بھی لوگوں کو شیطان نے اسی طرح دھوکا دیا ہے کہ لو جی ! حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں کو ہم پیش کرتے ہیں گو آدم کو دھوکا لگنے کی وجہ موجود تھی تمہارے پاس کوئی وجہ نہیں کیونکہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹوں کو تباہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا دعوی یہی ہے کہ یہ اپنے خاندان میں خلافت رکھنا چاہتے ہیں۔خلافت تو خدا اور جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں ہے اگر خدا اور جماعت احمدیہ خاندان بنو فارس میں خلافت رکھنے کا فیصلہ کریں تو یہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹے کون ہیں جو اس میں دخل دیں۔خلافت تو بہر حال خدا تعالیٰ اور جماعت احمدیہ کے اختیار میں ہے اور خدا اگر ساری جماعت کو اس طرف لے آئے گا تو پھر کسی کی طاقت نہیں کہ کھڑا ہو سکے۔پس میں نے یہ رستہ بتا دیا ہے لیکن میں نے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو عیسائی طریقہ انتخاب پر غور