خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 457

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۷ جلد دوم اب یہ دیکھ لو ا بھی تم نے گواہیاں سن لی ہیں کہ عبدالوہاب احراریوں کو مل کر قادیان کی خبریں سنایا کرتا تھا اور پھر تم نے یہ بھی سن لیا ہے کہ کس طرح پیغامیوں کے ساتھ ان لوگوں کے تعلقات ہیں۔سو اگر خدانخواستہ ان لوگوں کی تدبیر کامیاب ہو جائے تو اس کے معنی یہ تھے کہ بیالیس سال کی لڑائی کے بعد تم لوگ احراریوں اور پیغامیوں کے نیچے آ جاتے۔تم بظاہر اس کو چھوٹی بات سمجھتے ہو لیکن یہ چھوٹی بات نہیں یہ ایک بہت بڑی بات ہے اگر خدانخواستہ ان کی سکیم کامیاب ہو جاتی تو جماعت احمد یہ مبائعین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی اور اس کے لیڈر ہوتے مولوی صدر الدین اور عبد الرحمن مصری اور ان کے لیڈر ہو تے مولوی داؤد غزنوی اور عطاء اللہ شاہ بخاری۔اب تم بتاؤ کہ مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری اور داؤ دغزنوی اگر تمہارے لیڈر ہو جائیں تو تمہارا دنیا میں کوئی ٹھکانہ رہ جائے ؟ تمہارا ٹھکا نہ تو تبھی رہتا ہے جب مبائعین میں سے خلیفہ ہوا اور قرآن مجید نے شرط لگائی ہے منظم کی یعنی وہ مبائعین میں سے ہونا چاہیے۔اس پر کسی غیر مبائع یا احراری کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔اگر غیر مبائع کا اور احراری کا اثر ہو تو پھر وہ نہ مِنكُمُ ہو سکتا ہے نہ خلیفہ ہو سکتا ہے۔پس ایک تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جب بھی وہ وقت آئے آخر انسان کے لئے کوئی دن آنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابھی میں نے حوالہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی موت کی خبر دی اور فرمایا پریشان نہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ دوسری قدرت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔سو دوسری قدرت کا اگر تیسرا مظہر وہ ظاہر کرنا چاہے تو اس کو کون روک سکتا ہے۔ہر انسان نے آخر مرنا ہے مگر میں نے بتایا ہے کہ شیطان نے بتا دیا ہے کہ ابھی اس کا سر نہیں کچلا گیا۔وہ ابھی تمہارے اندر داخل ہونے کی امید رکھتا ہے۔”پیغام صلح کی تائید اور محمد حسین چیمہ کا مضمون بتاتا ہے کہ ابھی مارے ہوئے سانپ کی دُم ہل رہی ہے۔پس اُس کو مایوس کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ یہ نہ رکھا جائے کہ ملتان اور کراچی اور حیدر آباد اور کوئٹہ اور پشاور سب جگہ کے نمائندے جو پانچ سو کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں وہ آئیں تو انتخاب ہو بلکہ صرف ناظروں اور وکیلوں اور مقررہ اشخاص کے مشورہ کے ساتھ اگر وہ حاضر ہوں خلیفہ کا انتخاب ہو گا جس کے بعد جماعت میں اعلان کر دیا