خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 459

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۹ جلد دوم کرے گی کیونکہ قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ وقدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهِمْ جس طرح اس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا اسی طرح تم کو بنائے گا سو میں نے کہا عیسائی جس طرح انتخاب کرتے ہیں اس کو بھی معلوم کرو ہم نے اس کو دیکھا ہے گو پوری طرح تحقیق نہیں ہوئی وہ بہت سادہ طریق ہے۔اس میں جو بڑے بڑے علماء ہیں ان کی ایک چھوٹی سی تعداد پوپ کا انتخاب کرتی ہے اور باقی عیسائی دنیا اُسے قبول کر لیتی ہے لیکن اس کمیٹی کی رپورٹ سے پہلے ہی میں نے چند قواعد تجویز کر دیئے ہیں جو اس سال کی مجلس شوری کے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے تا کہ کسی شرارتی کے لئے شرارت کا موقع نہ رہے۔یہ قواعد چونکہ ایک ریز ولیوشن کی صورت میں مجلس شوری کے سامنے علیحدہ پیش ہو نگے اس لئے اس ریزولیوشن کے شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔میں نے پُرانے علماء کی کتابیں پڑھیں تو اُن میں بھی یہی لکھا ہوا پایا ہے کہ تمام صحابہ اور خلفاء اور بڑے بڑے ممتاز فقیہہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خلافت ہوتی تو اجماع کے ساتھ ہے لیکن یہ وہ اجماع ہوتا ہے کہ يَتَيَسَّرَ اجْتِمَاعُهُمُ د جن ارباب حل و عقد کا جمع ہونا آسان ہو۔یہ مراد نہیں کہ اتنا بڑا اجتماع ہو جائے کہ جمع ہی نہ ہو سکے اور خلافت ہی ختم ہو جائے بلکہ ایسے لوگوں کا اجتماع ہوگا جن کا جمع ہونا آسان ہو۔سو میں نے ایسا ہی اجماع بنا دیا ہے جن کا جمع ہونا آسان ہے اور اگر ان میں سے کوئی نہ پہنچے تو میں نے کہا ہے کہ اس کی غلطی سمجھی جائے گی۔انتخاب بہر حال تسلیم کیا جائے گا اور ہماری جماعت اس انتخاب کے پیچھے چلے گی۔مگر جماعت کو میں یہ حکم نہیں دیتا بلکہ اسلام کا بتایا ہوا طریقہ بیان کر دیتا ہوں تا کہ وہ گمراہی سے بچ جائیں۔ہاں جہاں میں نے خلیفہ کی تجویز بتائی ہے وہاں یہ بھی شریعت کا حکم ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی پرو پیگنڈا کیا جائے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا یا جن لوگوں کے متعلق پرو پیگنڈا کیا جائے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔یا جس کو خود تمنا ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کو وہ مقام نہ دیا جائے۔تو حضرت خلیفہ اول کی موجودہ اولاد بلکہ بعض پوتوں تک نے چونکہ پرو پیگنڈا میں حصہ لیا ہے اس لئے حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں یا اُن کے پوتوں کا نام ایسے