خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 456

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۶ جلد دوم کریں گے وہ تمام جماعت کے لئے قابل قبول ہوگا اور جماعت میں سے جومی سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گا وہ باغی ہوگا اور جب بھی انتخاب خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چنا جائے میں اُس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوگا اور جو بھی اس کے مقابل میں کھڑا ہو گا وہ بڑا ہویا چھوٹا ہو ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا کیونکہ ایسا خلیفہ صرف اس لئے کھڑا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرے کہ خلافت اسلامیہ ہمیشہ قائم رہے۔پس چونکہ وہ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کو پورا کرنے کے لئے کھڑا ہوگا اس لئے اُسے ڈرنا نہیں چاہیے۔جب مجھے خلیفہ چنا گیا تھا تو سلسلہ کے بڑے بڑے لیڈ ر سارے مخالف ہو گئے تھے اور خزانہ میں کل اٹھارہ آنے تھے اب تم بتاؤ اٹھارہ آنے میں ہم تم کو ایک ناشتہ بھی دے سکتے ہیں ؟ پھر خدا تعالیٰ تم کو کھینچ کر لے آیا۔اور یا تو یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر صرف بارہ سو آدمی جمع ہوئے تھے اور یا آج کی رپورٹ یہ ہے کہ ربوہ کے آدمیوں کو ملا کر اس وقت جلسہ مردانہ اور زنانہ میں پچپن ہزار تعداد ہے۔آج رات کو ۴۳ ہزار مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ہے۔بارہ ہزار ربوہ والے ملالئے جائیں تو پچپن ہزار ہو 0 جاتا ہے۔پس عورتوں اور مردوں کو ملا کر اس وقت ہماری تعداد ۵۵ ہزار ہے۔اُس وقت بارہ سو تھی یہ پچپن ہزار کہاں سے آئے؟ خدا ہی لایا۔پس میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا تو منان، وہاب اور پیغامی کیا چیز ہیں اگر دنیا کی حکومتیں بھی اُس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی ( نعر ہائے تکبیر ) جماعت احمدیہ کو حضرت خلیفہ اول کی اولاد سے ہر گز کوئی تعلق نہیں۔جماعت احمدیہ کو خدا کی خلافت سے تعلق ہے اور وہ خدا کی خلافت کے آگے اور پیچھے لڑے گی اور دنیا میں کسی شریر کو جو کہ خلافت کے خلاف ہے خلافت کے قریب بھی نہیں آنے دے گی۔