خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 442
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۲ جلد دوم بنانے کا اعلان کر دیا ہے مگر ہیں وہ بڑے پریشان کیونکہ قادیانی خلافت نے تو منافق ، غدار، ملحد اور دونوں جہان میں خائب و خاسر کا الزام دے کر اپنے سے ان کو عضو فاسد کی طرح کاٹ دیا ہے۔( ب ) لاہوری حضرات ان کو دوسرے قادیانیوں کی طرح ہی سمجھتے ہیں ان میں با ہمی عقیدہ و خیال کا کوئی فرق نہیں ہے صرف تھوڑا سا خلافتی اختلاف ہے اس بناء پر وہ ان کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیتے۔“ ( ج ) مرزائیت کی حالت میں مسلمانوں کا اُن سے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ اسلام کے ایک بنیادی و اساسی عقیدہ کے منکر ہیں مسلمان کا فر کی ذمی ہونے کی حیثیت سے حفاظت و صیانت تو کر سکتا ہے مگر مرتد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے بلکہ مرتد کی سزا اسلام میں نہایت سنگین ہے اس اعتبار سے یہ معاشرہ سے بالکل کٹ چکے ہیں۔“ (1) ضاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحْبَت ۳۹ کا سا ان کا حال ہے سرزمین پاکستان باوجود اپنی وسعت و فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی ہے کیا وہ ملک بدر ہو جائیں ؟ آخر جائیں تو کہاں جائیں۔فرض کر لیجئے کہ ان میں سے ایک آدمی کسی مکان پر صرف اکیلا ہی رہتا ہے زندگی میں ہزاروں حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اگر وہ بھی کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو ان سے کون اُنس و مروت کرے گا کیا وہ سسک سسک کر نہیں مر جائے گا۔بالفرض وہ فوت بھی ہو جاتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی تجہیز و تکفین کون کرے گا ، اس کا جنازہ کون پڑھائے گا اور کس کے قبرستان میں وہ دفن کیا جائے گا یا اس کی لاش کو چیلوں اور درندوں کے سپرد کر دیا جائے گا حقیقت پسند پارٹی کو ان بھیانک اور خوفناک نتائج پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے۔۴۰ غرض یہ پس منظر ہے آسمانی نظام کا۔تم آسمانی نظام کے سپاہی ہو اور شیطان اب نئی شکل میں ، نئے جبہ میں آکر احراریوں کی اور غیر مبائعین کی مدد سے منان اور وہاب کا نام لے کر اور عبد السلام کے بیٹوں کا نام لے کر تمہارے اندر داخل ہونا چاہتا ہے اور تم کو جنت۔نکالنا چاہتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ پہلا آدم آیا تھا اور شیطان نے