خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 440

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۰ جلد دوم کیا تھا اور پھر یہ شہادت الفضل اار دسمبر ۱۹۵۶ء میں بھی چھپ چکی ہے اور اس کے متعلق جلسہ سالانہ پر ایک ٹریکٹ بھی شائع ہوا ہے۔دوست اسے دیکھ چکے ہوں گے اس میں انہوں نے حضرت خلیفہ اول کا ایک نوٹ شائع کیا ہے جو دسمبر ۱۹۱۲ ء کا لکھا ہوا ہے کہ مصلح موعود ۳۰ تمیں سال کے بعد ظاہر ہو گا۔چنانچہ ۱۹۴۴ء میں خدا تعالیٰ نے مجھے رؤیا دکھائی کہ تم مصلح موعود ہو۔اس مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ:۔فرقان کے پچھلے شمارہ میں میں نے بڑے دردمند دل کے ساتھ ابتدائی چند صفحات قلمبند کئے تھے اور میں حد درجہ اس کا آرزومند تھا کہ کسی طرح ہمارے یہ بچھڑے ہوئے بھائی پھر ہم میں آملیں اور اپنی طاقتوں کو با ہمی آویزش میں ضائع نہ کریں بلکہ آپس میں مل کر متحدہ رنگ میں اکناف عالم میں اسلام کو پھیلانے اور پاک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے کیلئے خرچ کر سکیں کہ یہی اس دور میں ہمارا اولین فرض اور ہماری زندگیوں کا بہترین مقصد ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی دردمندانہ جذبہ کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس احسان سے نوازا کہ میں آج اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کے سامنے اس آواز کی تائید میں جو گزشتہ پر چہ میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کے دامن سے اپنے دامن کو وابستہ کر لینے کے متعلق بلند کی گئی تھی۔حضرت علامہ حاجی الحرمین سید نا نورالدین صدیق ثانی کی ایک زبردست شہادت کو پیش کر سکوں۔“ ’ وہ پیغامیوں کو تو ۱۹۴۵ء میں کہتا ہے کہ بچھڑے ہوئے بھا ئیومل جاؤ اور اپنے آپ کو کہتا ہے کہ بھاگ جاؤ مبائعین کے پاس سے چلے جاؤ ابلیس کی گود میں اور جماعت احمد یہ کے اتحاد کو چاک چاک کر دو ، پھر آگے لکھتا ہے۔اے مُقلب القلوب خدا ! تو اس برادرانہ جنگ کو ختم فرما اور اپنے پیارے مسیح کے ان خادموں کو جو تیرے اس رسول کی تخت گاہ سے کٹ گئے ہیں انہیں اس پر مخلصانہ غور کرنے کی توفیق عطا فرما۔ان کے دلوں کو کھول دے اور اس طرح پھر سے انہیں لے آ کہ ہم سب مصلح موعود کی زیر ہدایت پہلو بہ پہلو کندھے سے کندھا جوڑے اشداء على الكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ٣٧ کا مصداق بنیں۔- ا