خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 439

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۹ جلد دوم کے بچوں کو لکھا کہ :۔”ہمارے بزرگ دادا کو یہاں تک کہا جارہا ہے کہ انہوں نے تو کبھی بھی اپنی اولا دکو خدا کے سپرد نہ کیا تھا۔( اس خط کا عکس ہمارے پاس محفوظ ہے اور اُن کے بھائی دیکھ سکتے ہیں ) حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات عبد الوہاب اور عبدالمنان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہی تھی۔مولوی شیر علی صاحب جیسے مخلص کی اس نا خلف بیٹی کو وہاب اور منان کی تو وہ بات بُری نہ لگی جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کہی تھی لیکن وہ بات بُری لگی جو جواب کے طور پر مبائعین نے حضرت خلیفہ اول کی اولاد کے متعلق کہی تھی۔اب اخبار ” پیغام کے ۵ دسمبر کے پرچہ میں سید تصدق حسین صاحب بغداد کا ایک خط چھپا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ”پیغام صلح میں ” مولوی عبد المنان صاحب عمر کا مکتوب فتنہ قادیان اور منافقین کو سمجھنے کیلئے اخوان ربوہ کو بصیرت کا کام دے گا۔“ ہم نے 66 ”پیغام صلح کے سب پرچے دیکھ مارے ہیں ان میں وہ مضمون نہیں مگر ہم کو ایک ٹریکٹ ملا ہے جس کے نیچے حقیقت پسند پارٹی“ لکھا ہوا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جتھہ پیغامیوں کے ساتھ ہے اور پیغامی ان ٹریکٹوں کو جو حقیقت پسند پارٹی چھاپ رہی ہے اپنے آدمیوں کو دنیا میں چاروں طرف یہ کہہ کر بھجوا رہی ہے کہ میاں عبدالمنان نے لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہ ان کے یار غار ہیں ان کو پتہ ہوگا کہ میاں عبدالمنان نے یہ ٹریکٹ لکھے ہیں ورنہ وہ شخص جو ان کی جماعت کا بغداد میں لیڈ ر ہے یہ کیوں لکھتا کہ میاں عبدالمنان کا ٹریکٹ مل گیا ہے۔غرض آدم کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک دین کو دُنیا پر مقدم نہ کرنے کی وجہ سے نظام الہی کے خلاف بغاوتیں ہوتی چلی آئی ہیں اور آج کا پیغا می جھگڑا یا حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان کا فتنہ بھی اسی وجہ سے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی جماعت سے یہ عہد لینا کہ ”میں دین کو دُنیا پر مقدم رکھوں گا اسی وجہ سے تھا مگر افسوس که با وجود حضرت خلیفہ اول کے ہوشیار کر دینے کے ان کی اولاد اس فتنہ میں پھنس گئی۔حالانکہ حضرت خلیفہ اول کی شہادت کو خود عبدالمنان نے ۱۹۴۵ء کے رسالہ فرقان میں شائع ،