خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 438
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۸ جلد دوم بھی نہ مانا جائے تو کوئی حرج نہیں۔پھر دو تین باتیں تبلیغی طور پر میں نے اور دوسرے ساتھیوں نے کیں پھر میاں صاحب چپ ہو گئے۔جس سے معلوم ہوا کہ ان پر کچھ اثر ہوا ہے پھر کچھ دنوں کے بعد میں نے مولوی عبد السلام صاحب عمر سے عبدالواسع کے متعلق کہا کہ میں نے ایسی بات سنی ہے اور مجھے افسوس ہوا ہے تو مولوی صاحب نے کہا کہ نئی روشنی کا اثر نو جوانوں میں ہو گیا ہے“۔ایک اور احمدی دوست عبد الرحیم صاحب کی شہادت ہے کہ مولوی عبد السلام صاحب نے جواب میں کہا کہ وہ ابھی بچہ ہے حالانکہ اُس وقت وہ ایم اے کر چکا تھا۔اسی طرح امۃ الرحمن بنت مولوی شیر علی صاحب زوجہ میاں عبدالمنان صاحب عمر کا خط کسی نے بھیجا ہے جو مولوی عبد السلام کے لڑکے واسع کے نام ہے اس خط کو کسی نے پکڑ کر بھیج دیا وہ ہمارے پاس موجود ہے اس میں اس نے لکھا ہے کہ ” میری رائے میں تو آپ لوگوں کا جلد ہی آجانا بہتر تھا لیکن دیکھئے آپ کے چچا کی کیا رائے ہے۔یعنی میری رائے تو یہ ہے کہ جلدی سے ربوہ آجاؤ مگر منان ابھی امریکہ میں ہے وہ آجائے تو پتہ لگے گا کہ اس کی کیا رائے ہے پھر لکھا ہے۔لوگ یکے بعد دیگرے آپ لوگوں کے ماحول میں آویں گے۔یعنی ربوہ آجائیں ساری جماعت ٹوٹ کر آپ کے گرد جمع ہو جائے گی۔پھر لکھا ہے۔کہا کچھ جاتا ہے بتایا کچھ جاتا ہے خطبوں کو اگر حسب سابق منشی ہی دیا کریں تو زیادہ بہتر ہے کشتی نوح سے زیادہ اہم ان کے خطبے ہیں۔اسی طرح امتہ الرحمن زوجہ میاں عبدالمنان صاحب عمر نے ستمبر ۱۹۵۶ء میں اپنے جیٹھ کوئی شخص یہ شبہ نہ کرے کہ اماں جی اور مولوی عبد السلام صاحب تو وفات پا کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہو چکے ہیں پھر ان کی مغفرت کس طرح ہو گئی۔بخشش خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہ جس کو چاہے معاف کر سکتا ہے معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو بعض اور نیکیوں کی وجہ سے ان کے بعض مخالفانہ افعال سے تو بہ کرنے کی توفیق بخش کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا موقع عطا فرما دیا اور اس طرح اپنے فضل سے اس نے انہیں اپنی مغفرت کے دامن میں لے لیا۔