خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 437

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۷ جلد دوم اور بلوغ المرام مشہور ہیں۔مسند احمد ضبل پہلی قسم کی کتابوں میں سے ہے جہاں سے انہوں نے حدیثیں نقل کی ہیں مگر انہوں نے یہ حدیثیں راویوں کے نیچے دی ہیں مضمون وار نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی خواہش تھی کہ مضمون وار بھی ان کو جمع کیا جائے تا کہ مضمون نکالنا آسان ہو۔پس یہ تو جھوٹ ہے کہ میاں منان نے حدیثیں جمع کی ہیں مگر یہ صحیح ہے کہ جامعہ احمدیہ کے استادوں اور طالب علموں کی مدد سے اور کچھ حضرت خلیفہ اول کے کام کی مدد سے بخاری کے باب لیکر ان کے ماتحت مسند احمد بن حنبل کی حدیثیں انہوں نے مضمون وار جمع کر دی ہیں یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح کہ ڈکشنری میں سے لفظ نکالنے۔ہر ایک محنتی طالب علم یہ کام کر سکتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت خلیفہ اول کی خواہش کے مطابق میں نے علماء کو مقرر کر دیا ہے اور وہ کتاب مکمل ہو چکی ہے اب وہ جامع کی شکل میں زیادہ مکمل صورت میں موجود ہے حضرت خلیفہ اول کی خواہش بعض اور اصلاحات کی بھی تھی جن کو میں نے ۱۹۴۴ء کی مجلس عرفان میں بیان کیا تھا اس کے متعلق بھی میں نے ہدایت دے دی ہے کہ ان کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔وہ احمدی جن سے روپیہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی تا کہ جماعت کے فتنے پر اُسے خرچ کیا جائے وہ مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری کے لڑکے ہیں اور اسی طرح افریقہ کا ایک دوست ہے جو بچ گیا۔اس کے بیٹے نے کہہ دیا کہ میں ایسا خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ان سے میں کہتا ہوں کہ تمہاری تو وہی مثل ہے کہ ” تیری جوتی تیرے ہی سر تم سے ہی روپیہ لے کے تمہارے ہی خلاف استعمال کیا جانے والا تھا لیکن خدا نے تمہیں بچالیا۔یہ فتنہ اب بیٹوں سے نکل کر پوتوں تک بھی جا پہنچا ہے۔چنانچہ میاں سلطان علی صاحب ولد فتح محمد صاحب سندھ سے لکھتے ہیں کہ :۔میں خدا کو حاضر ناظر جان کر ایمان سے کہتا ہوں کہ گزشتہ سال شروع سردی میں میرے ساتھ عبدالواسع عمر پسر مولوی عبد السلام عمر اور دوسرے دو آدمی مولوی عبد السلام عمر کی بستی نور آباد سے گوٹھ سلطان علی کو شام کے وقت آ رہے تھے باتوں باتوں میں میاں عبدالواسع نے کہا کہ اگر انسان نیک ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ بھی مانا جائے تو کوئی حرج نہیں جس پر میں نے جواب دیا کہ اس طرح تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو