خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 436

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۶ جلد دوم نے یہ فہرست لائبریری سے مستعار لی اور کچھ لوگوں کی مدد سے اس میں کچھ زیادتی کر کے اسے اپنی طرف منسوب کر لیا۔پس کچھ حصہ اس کام کا خود حضرت خلیفہ اول کر چکے تھے باقی حصہ مولوی عبد المنان صاحب نے کیا لیکن وہ حصہ بھی خود نہیں کیا بلکہ جب وہ جامعہ احمد یہ میں پروفیسر تھے تو دوسرے استادوں اور لڑکوں کی مدد سے کیا تھا بلکہ شاہد کلاس کے ایک۔طالب علم محمود احمد مختار نے مجھے لکھا ہے کہ اس کا دیباچہ انہوں نے اُردو میں لکھا تھا۔پھر مولوی محمد احمد صاحب ثاقب کے ذریعہ سے مجھے دیا کہ میں اس کا عربی میں ترجمہ کروں۔پھر یہ بھی یا د رکھنا چاہیے کہ علامہ احمد محمد شاکر مصری جو اخوان المسلمین ۳۶۸ے کے بانی بنار خاندان میں سے ہیں انہوں نے اس کتاب کا انڈیکس تیار کیا ہوا ہے اور اس کی چودہ جلد میں چھپ چکی ہیں جو میری لائبریری میں موجود ہیں۔اسی طرح احمد عبد الرحمن کی تبویب ” الفتح الربانی کی پانچ مجلدات بھی چھپی ہوئی ہیں۔ہمارے پاس منڈی بہاؤالدین سے مولوی محمد ارشاد صاحب بشیر کی شہادت آئی ہے کہ وہاں پیغامی یہ پرو پیگنڈا کر رہے ہیں کہ مولوی منان صاحب نے ساری حدیثیں جمع کی ہیں یعنی وہ جو تبویب تھی اس کا نام ساری حدیثیں جمع کرنا رکھا ہے اس لئے یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حدیثوں کی کتابیں کئی قسم کی ہیں ایک مسند کہلاتی ہیں جن میں راوی کے نام کے لحاظ سے حدیثیں جمع کی جاتی ہیں خواہ وہ کسی مضمون کی ہوں مثلاً حضرت ابو بکڑ کی حدیثیں ایک جگہ ، حضرت عمرؓ کی ایک جگہ، وَهَلُمَّ جَرًّا مسند احمد حنبل بھی اسی بناء پر مسند کہلاتی ہے۔اور بخاری وغیرہ چونکہ مضمونوں کی بنا پر لکھتے ہیں اس لئے ان کو جامع کہتے ہیں جیسے جامع بخاری، جامع مسلم ، جامع ابی داؤد اور جامع ابن ماجہ ،سنن ابن ماجہ بھی اس کا نام مشہور ہے اسی طرح جامع ترندی۔اگر وہ بہت اعلیٰ کتابیں ہوں تو انہیں صحیح کہہ دیتے ہیں جیسے صحیح بخاری۔ایک تیسری قسم کی حدیثوں کی کتابیں وہ ہیں جن میں براہ راست حدیثیں درج نہیں کی گئیں بلکہ حدیث کی پہلی کتب میں سے ضروری حدیثیں اکٹھی کر لی گئی ہیں ان میں ابن تیمیہ کی منتظر ہے، سیوطی کی جامع الصغیر ہے ، ہمارے ملک میں عام طور پر مشکوۃ