خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 28
خلافة على منهاج النبوة ۲۸ جلد دوم خلیفہ کی کامل اطاعت ۱۹۳۴ء کے فتنہ میں احراریوں کی زبردست شکست کے بعد مخالفین نے جماعت کے خلاف کئی نئے محاذ کھول لئے۔ایک فتنہ مرتدین کا تھا۔حضور نے خلیفہ کی کامل اطاعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اگست ۱۹۳۷ ء میں اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِهِ حدیث کی تشریح میں فرمایا :۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ موجودہ فتنہ خلافت کے خلاف ہے۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلافت اسلام کا ایک اہم جزو ہے اور جو اس سے بغاوت کرتا ہے وہ اسلام سے بغاوت کرتا ہے۔اگر ہمارا یہ خیال درست ہے تو جولوگ اس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہیں، ان کیلئے اَلْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ کا حکم بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ خلافت کی غرض تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد عمل اور اتحاد خیال پیدا کیا جائے اور اتحاد عمل اور اتحاد خیال خلافت کے ذریعہ سے سبھی پیدا کیا جا سکتا ہے اگر خلیفہ کی ہدایات پر پورے طور پر عمل کیا جائے۔اور جس طرح نماز میں امام کے رکوع کے ساتھ رکوع اور قیام کے ساتھ قیام اور سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا جاتا ہے اسی طرح خلیفہ وقت کے اشارہ کے ماتحت ساری جماعت چلے اور اس کے حکم سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرے۔نماز کا امام جو صرف چند مقتدیوں کا امام ہوتا ہے جب اس کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اس کے رکوع اور سجدہ میں جانے سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے یا اس سے پہلے سر اُٹھاتا ہے ، وہ گنہگا رہے ہے تو جو شخص ساری قوم کا امام ہو اور اُس کے ہاتھ پر سب صلى الله نے بیعت کی ہو اُس کی اطاعت کتنی ضروری سمجھی جائے گی۔چنانچہ رسول کریم ﷺ اسی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرماتے ہیں کہ اَلاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ تم اپنی انفرادی