خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 29
خلافة على منهاج النبوة ۲۹ جلد دوم عبادتوں میں شریعتِ اسلامیہ کے مطابق جس طرح چاہو عمل کرو لیکن اپنی قوم کے مخالفوں کے مقابلہ کا جب وقت آئے ، اُس وقت تمہاری سب آزادی سلب ہو جاتی ہے اور تم کو حق نہیں پہنچتا کہ امام کی موجودگی اور آزادی کے وقت میں تم اس بارہ میں کوئی آزاد فیصلہ کرو چاہئے کہ امام تمہارے لئے بطور ڈھال کے ہو۔جس طرح سپاہی ڈھال کے پیچھے چلتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں ڈھال سے اِدھر اُدھر ہوا اور مرا۔اسی طرح تم سب امام کے اشارہ پر چلو اور اس کی ہدایات سے ذرہ بھر بھی اِدھر اُدھر نہ ہو۔جب وہ حکم دے بڑھو اور جب وہ حکم دے ٹھہر جاؤ۔اور جدھر بڑھنے کا وہ حکم دے اُدھر بڑھو اور جدھر سے ہٹنے کا حکم دے اُدھر سے ہٹ آؤ۔اس حکم کی جب تک فرمانبرداری نہ کی جائے ، خلافت ایک بے معنی ہے رہ جاتی ہے اور وہ اتحاد جس کے پیدا کرنے کیلئے اسلام نے یہ سب سامان پیدا کیا ہے کسی طرح بھی پیدا نہیں ہوسکتا اور اسلام کی وہ ترقی جو اس اتحاد سے مقصود ہے حاصل نہیں ہو سکتی۔ادھوری اتباع صرف طاقت کو ضائع کرنے والی ہوتی ہے۔اس سے صرف لوگوں کی آزادی چھنتی ہے اور وہ شیریں پھل نہیں پیدا ہوتے جن پھلوں کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا منشا ہے اور جن پھلوں کو کھا کر مومن اسی دنیا میں جنت کے مزے لوٹ سکتا ہے“۔انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۵۱۶٬۵۱۵) بخارى كتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام صفحه ۴۸۹ حدیث نمبر ۲۹۵۷ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية بخاری کتاب الاذان باب اثم من رفع رأسه قبل الامام صفحہ ۱۳ احدیث نمبر ۶۹۱ مطبوعہ ریاض ١٩٩٩ء الطبعة الثانية