خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 417

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۷ جلد دوم ملہم تھے انہوں نے ایک خواب دیکھی تھی جو حافظ محمد یوسف صاحب نے جو امرتسر کے ایک عالم تھے اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مریدوں میں سے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچا دی۔وہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں چھپی ہوئی ہے وہ خواب یہ تھی کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کا نور اترامگر میری اولا د اس سے محروم جب یہ خواب شائع ہوئی تو مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی اولا د کو غصہ لگا اور رہی ۲۷ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑے بڑے فتوے دیئے۔اس وقت اس خاندان کے لیڈر مولوی داؤ د غزنوی ہیں جو ۱۹۵۳ء کے ایجی ٹیشن میں جس میں سینکڑوں احمدی مارے گئے تھے ، لیڈر تھے۔یہ مولوی دا د دغزنوی مولوی عبدالجبار بیٹے ہیں جو مولوی عبد الواحد کے بڑے بھائی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبد الجبار کے ایک بھائی احمد بن عبد اللہ غزنوی کا فتویٰ اپنے متعلق کتابوں میں نقل کیا ہے کہ وہ کیسا بد گو آدمی تھا۔اُس نے جو فتویٰ دیا تھا وہ کتاب البریہ صفحہ ۱۳۰ پر درج ہے اس میں لکھا ہے کہ ”قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو ا بن تیمیہ کا قول ہے جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہ بن کر نبی ہونے کا دعوی کر یں۔یہ یعنی مسیح موعود ) بدترین خلائق ہے ( یعنی چوہڑوں چماروں سے بھی بدتر ہے ) تمام لوگوں سے ذلیل تر۔آگ میں جھونکا جائے گا ( یعنی جہنم میں پڑے گا )، ۲۸ یہ تو ایک بھائی کا فتویٰ تھا اب مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ ( مولوی عبد الواحد غزنوی ) کا فتوی سن لو جس کے ساتھ مل کر منان کوششیں کر رہا ہے اور جس کا بیٹا بنگال کے وفد کو لینے کیلئے بارڈر پر گیا تھا۔مولوی عبدالواحد بن عبد اللہ غزنوی کا فتویٰ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشاعۃ السنۃ جلد ۱۳ میں صفحہ ۲۰۲ پر شائع کیا ہے یہ دو بھائیوں نے مل کر فتویٰ دیا تھا ایک مولوی عبدا لواحد نے جو مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ ہیں اور ایک ان کے دوسرے بھائی مولوی عبدالحق نے اس میں لکھا ہے کہ :۔