خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 418
خلافة على منهاج النبوة وو ۴۱۸ جلد دوم یہ مسئول عند شخص ( یعنی حضرت مسیح موعود ) اپنی ابتدائی حالت میں اچھا معلوم ہوتا تھا دین کی نصرت میں ساعی تھا اللہ تعالیٰ اس کا مددگار تھا دن بدن فَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ مَا مصداق بنتا جاتا تھا لیکن اس سے اس نعمت کی قدر دانی نہ ہوئی۔نفس پروری و زمانہ سازی شروع کی۔زمانہ کے رنگ کو دیکھ کر اس کے موافق کتاب وسنت میں تحریف والحاد و یہودیت اختیار کی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا فَيُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ کا مصداق بن گیا۔۲۹ یعنی اب دنیا میں لوگ اس سے بغض کریں گے اب تم دیکھ لو کہ مولوی عبدالواحد کا قول سچا نکلا کہ لوگ اس سے بغض کر رہے ہیں یا لوگ بیٹھے ہوئے اس پر درود سلام بھیج رہے اور اس کیلئے دعائیں کر رہے ہیں۔پھر اس کا ایک اور بھائی مولوی عبد الحق غزنوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔۔۔۔۔۔کے متعلق لکھتا ہے :۔دجال ، ملحد ، کاذب، روسیاه، بدکار، شیطان لعنتی ، بے ایمان ، ذلیل ، خوار، خسته خراب ، کافر ، شقی سرمدی ہے ( یعنی قیامت تک شقی ہے ) لعنت کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے لعن طعن کا جوت اس کے سر پر پڑا۔بے جا تاویل کرنے والا۔۔۔مارے شرمندگی کے زہر کھا کر مر جاوے گا بکواس کرتا ہے۔رسوا ، ذلیل ، شرمندہ ہوا، اللہ کی لعنت ہو۔جھوٹے اشتہارات شائع کرنے والا ، اس کی سب باتیں بکواس ہیں۔مے اور اس کا ہیڈ نگ بھی کیسا پاکیزہ رکھا ہے اشتہار کا نام ہے ضربُ النِّعَالِ عَلَى وَجْهِ الدَّجَّالِ “ یعنی حضرت مسیح موعود دجال ہیں اور میں ان کے منہ پر جوتیاں مارتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے حجتہ اللہ کتاب کے صفحہ ے پر اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ عبد الحق غزنوی نے مجھے ایک خط میں گالیاں دیتے ہوئے لکھا ہے :۔دس ہزار تیرے پر لعنت ، پھر لعنت لعنت کئی دفعہ لکھا ہے اور آخر میں لکھا۔عشرة الف مائة “ یعنی دس لاکھ دفعہ لعنت اس پر نازل ہو۔پھر یہی مولوی عبد الحق غزنوی (مولوی اسماعیل غزنوی کا چچا ) حضرت صاحب کے متعلق لکھتا ہے :۔ہے