خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 416
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۶ جلد دوم لکھا ہے۔” جناب مولوی اسماعیل کے ساتھ جس آدمی کے متعلق آپ کے سامنے ذکر فرمایا تھا ( اپنے آپ کو فر ما یا لکھتا ہے ) اس کو جناب مولوی صاحب سے ملا دیا۔بعد میں کوشش کی کہ آپ کی بھی ملاقات ہو وے مگر آپ کو موقع نہ ملا اگر موقع ملتا تو آپ ضرور اس کے خیال کا پتہ کرتے اور جو مال اس کے پاس تھا دیکھتے اگر اس قابل ہوتا کہ موجودہ وقت کے مطابق شائع کرنا مناسب حال ہوتا تو آپ بات کر لیتے“۔گویا اُس وقت بھی بقول اللہ رکھا ہمارے خلاف ٹریکٹ لکھوائے جارہے تھے اور مولوی عبد المنان مولوی اسماعیل صاحب غزنوی سے مل کر مشورے کرتا تھا۔اس خط سے بالکل واضح ہو گیا ہے کہ اللہ رکھا مولوی اسماعیل غزنوی اور مولوی عبدالمنان میں سالہا سال سے ایک سازش جاری تھی اور یہ محض غلط بیانی ہے کہ اماں جی کی وفات پر کسی ہمدردی کے خط پر اس سے تعلق پیدا ہوا۔یہ سازش عام نہیں تھی بلکہ سلسلہ کے خلاف لٹریچر شائع کرنے کی سازش تھی جس میں غیر احمدی بھی شامل تھے۔ہماری جماعت کے لوگ چونکہ عموماً باہر کے لوگوں سے واقف نہیں ہوتے اس لئے وہ سمجھتے نہیں کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کون ہیں؟ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی حضرت خلیفہ اول کی پہلی بیٹی کے بیٹے ہیں۔جب آپ وہابی تھے تو آپ نے وہابی تعلق کی وجہ سے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جو نہایت بزرگ اور ولی اللہ تھے اور افغانستان سے ہجرت کر کے آئے تھے ان کے بیٹے مولوی عبد الواحد سے اپنی لڑکی امامہ کا بیاہ کر دیا۔امامہ کے بطن سے تین بچے پیدا ہوئے۔ایک آمنہ بڑی لڑکی پیدا ہوئی اور دوسرے محمد ابراہیم بیٹا پیدا ہوا اور تیسرے محمد اسماعیل پیدا ہوا جو اب مولوی اسماعیل غزنوی کہلاتا ہے۔ابراہیم غزنوی بچپن میں میرے ساتھ کھیلا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے پاس جو اس کے نانا تھے آیا کرتا تھا بہت نیک اور شریف لڑکا تھا یعنی وہ اپنے چھوٹے بھائی کی بالکل ضد تھا۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ بڑا ہوتا تو احمدی ہوتا یا باپ کے اثر کے نیچے نہ ہوتا۔مگر بہر حال وہ ایک نیک لڑکا تھا۔اس خاندان کی سلسلہ سے عداوت بہت پرانی ہے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جو