خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 405

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۵ جلد دوم ان سے امداد بھی لیتے تھے جیسا کہ ملک عبد الرحمن صاحب خادم کی گواہی سے ظاہر ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے اور جسمیں انہوں نے لکھا ہے کہ :۔اگر چہ ۱۹۲۶ء سے لے کر آج تک مولوی عبد الوہاب صاحب کو ایک مرتبہ بھی منافقانہ خیالات کے میرے سامنے اظہار کی جرات نہیں ہوئی لیکن میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ ان کی یہ بیماری نئی نہیں بلکہ جس زمانہ میں ہم کالج میں پڑھتے اور احمد یہ ہوٹل لاہور میں رہتے تھے تو وہ اُن دنوں بھی احمد یہ بلڈنگ میں جاتے اور مولوی محمد علی صاحب سے ملا کرتے تھے اور ان سے مالی امداد بھی لیا کرتے تھے حالانکہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ان کو بہت کافی مالی امداد با قاعدہ ملتی تھی یہ ۱۹۳۲ء۔۱۹۳۱ء کی بات ہے“۔اسی کی تائید شیخ محمد اقبال صاحب تاجر کوئٹہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے جس کو ابھی بیان کیا گیا ہے اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مکتبہ اُردو اور ماہنامہ 'ادب لطیف لاہور کے مالک چوہدری برکت علی مرحوم نے اُن سے کہا کہ تمہاری جماعت کے سرکردہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں اور اہل قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں۔جب میں نے اصرار کیا کہ بتائیں وہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے جاتے ہیں مگر وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں ، ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں۔اور آخر میں مولوی عبدالوہاب کا نام لیا۔ان گواہیوں سے ظاہر ہے کہ مولوی عبد الوہاب صاحب اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی غیروں سے شکایت کرتے رہے اور یہ پرو پیگنڈا کرتے رہے کہ ان کی کوئی مالی امداد نہیں کی جاتی حالانکہ یہ بالکل جھوٹ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تھے اور حضرت خلیفہ اول ۱۹۱۴ء میں فوت ہوئے گویا حضرت خلیفہ اول کی وفات پر بیالیس سال اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اڑتالیس سال گزر چکے ہیں جو حضرت خلیفہ اول کی وفات کے عرصہ ! صہ سے یقیناً زیادہ ہے۔اس عرصہ میں سلسلہ کی طرف سے جو دونوں خاندانوں کو امداد