خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 406

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۶ جلد دوم دی گئی ہے اس کا میں نے حساب نکلوایا ہے جو پچیس سال گزشتہ کا مل چکا ہے کیونکہ کچھ ریکارڈ قادیان رہ گیا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے خاندان کو ۲۵ سال کے عرصہ میں نوے ہزار ایک سو بیس روپیہ دیا گیا اور حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان کو جو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادم تھے اس عرصہ میں نوے ہزار دو سو نوے روپیہ ملا ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے جن کے افراد زیادہ تھے حضرت خلیفہ اول کے خاندان کو ایک سو ستر روپیہ زیادہ ملا اور ابھی وہ رقمیں الگ ہیں جو میں دیتا رہا۔مگر باوجود اس کے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے خاندان کو گرایا جا رہا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جارہی۔جب اس کے ساتھ یہ بات بھی ملائی جائے کہ اس چھپیں سال میں میں نے چندے کے طور پر ۴۵ ہزار کی رقم دی ہے اور پچھلے سال قریباً ڈیڑھ لاکھ کی زمین انجمن کو دی ہے تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کو ایک کوڑی بھی نہیں ملی بلکہ انہوں نے بغیر کوئی پیسہ لئے صدر انجمن احمدیہ کی خدمت کی ہے اور اس کو ایک بڑی بھاری رقم دی ہے اور اس کے علاوہ تحریک جدید کو میں نے تین لاکھ روپیہ دیا ہے۔۱۹۳۶ء میں کیپٹن نواب دین صاحب دار الفضل ربوہ کی گواہی کے مطابق شیخ محمد سعید صاحب نے جو آجکل صو بیدار میجر کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہو کر لاہور میں مقیم ہیں ان کے پاس بیان کیا کہ ڈلہوزی میں میاں عبد الوہاب، شیخ مولا بخش صاحب لائکپوری اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی اُن مجالس میں موجود ہوتے تھے جن میں وہ خلیفہ ثانی پر گندے الزامات لگاتے تھے اور اُن لوگوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔۱۹۴۰ء میں شیخ عبد الرحیم صاحب پراچہ کی گواہی کے مطابق مولوی حبیب الرحم لدھیانوی کے والد مولوی محمد زکریا صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ مولوی عبدالوہاب صاحب ان کے ایجنٹ اور منجر ہیں چنانچہ پراچہ صاحب لکھتے ہیں :۔مکرم شیخ عبدالرحیم صاحب پراچہ کی شہادت بہت عرصہ ہوا احمد یہ ہوشل لاہور مزنگ کے علاقہ میں