خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 404

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۴ جلد دوم ہوا ہے جس میں اہل قادیان نے متفقہ طور پر خلیفہ صاحب کی اقتداء کے خلاف نکتہ چینی کی ہے اور صدائے احتجاج بلند کی ہے (لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ) میں خاموشی سے سنتا رہا اس کے بعد چوہدری صاحب کہنے لگے کہ تمہاری جماعت کے بزرگوں کے ذاتی کیریکٹر کے متعلق بھی ہمیں اطلاعات ملتی رہتی ہیں اور کچھ بزرگوں کے خلاف الزام بھی لگائے۔اس پر میری غیرت نے اور کچھ سننا گوارا نہیں کیا اور میں نے نہایت جوش میں دوسرے ہر دو غیر احمدی احباب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوستو ! ہمارا اپنا مکان قادیان میں ہے اور میں اور میرا خاندان ایک لمبے عرصہ تک وہاں مقیم رہے ہیں ہم بھی وہاں کے تمام حالات سے واقف ہیں لیکن میں عینی شاہد ہونے کی حیثیت سے چوہدری صاحب کے تمام الزامات اور غلط واقعات کی تردید کرتا ہوں اور اس کے جواب میں یہی کہتا ہوں کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔اور اب میں یہ کہتا ہوں کہ اگر چوہدری صاحب ان نام نہا د سر کردہ احمدیوں کے نام نہیں بتائیں گے جو نہ صرف منافق ہیں اور خفیہ طور پر احرار سے ملتے ہیں بلکہ اپنے کذب اور جھوٹ کو راز کی باتیں بتا کر ان کے عوض جماعت کے شدید دشمنوں کے سامنے کاسہ گدائی لئے پھرتے ہیں تو میں یہ کہنے پر مجبور ہونگا کہ یہ سب کذب اور افتراء چوہدری صاحب جیسے اور ان جیسے دیگر دشمنانِ احمدیت کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں اور خواہ مخواہ احمدیوں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔اس پر یکلخت چوہدری برکت علی صاحب نے کہا کہ ” وہ آپ کے خلیفہ اول کےلڑکے مولوی عبدالوہاب ہیں“۔حضور مجھے اُس وقت ہر گز یقین نہیں آیا تھا کہ مولوی عبد الوہاب صاحب کے متعلق جو باتیں چوہدری برکت علی نے کی ہیں وہ سچ ہیں بلکہ یہی سمجھتا رہا کہ ان پر افتراء کیا جا رہا ہے ور چونکہ تحقیق کے بغیر کسی پر عائد شدہ الزام کو پھیلانا اسلام میں ممنوع ہے میں آج تک خاموش رہا ہوں آج تیرہ سال کے بعد اس واقعہ کو حلفیہ طور پر بیان کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں“۔۲۰ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ۱۹۳۲ء۔۱۹۳۱ء میں احمد یہ ہوسٹل کی رہائش کے زمانہ میں میاں عبد الوہاب احمد یہ بلڈنکس میں جاتے اور مولوی محمد علی صاحب سے ملا کرتے تھے اور