خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 393
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۳ جلد دوم میری بڑی خواہش تھی کہ میرا جسمانی رشتہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہو جائے مگر وہ پوری نہیں ہوئی جس پر میں نے آپ کی وفات کے بعد اور خلیفہ بننے کے بعد امتہ الحی مرحومہ سے شادی کی تو پیغامیوں نے والدہ عبد الوہاب اور والدہ عبدالمنان کو یہ کہنا شروع کیا کہ یہ رشتہ مرزا محمود احمد نے اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کیلئے کیا تھا حالانکہ اگر میں پہلے کرتا تب تو یہ اعتراض ہوتا کہ خلافت لینے کیلئے کیا ہے لیکن اول تو یہ سوال ہے کہ خلافت حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تو نہیں تھی خلافت حضرت مسیح موعود کی تھی اگر باپ سے بیٹے کو حق پہنچتا ہے تو میں مسیح موعود کا بیٹا تھا پھر تو مولوی صاحب بھی خلیفہ نہیں رہتے ، پھر تو خلیفہ مجھے ہونا چاہیے تھا۔دوسرے خلیفہ میں پہلے ہو چکا تھا رشتہ بعد میں ہوا۔بہر حال عبدالحی مرحوم تو اس فتنہ میں نہ آیا جیسا کہ اس کی وفات کے موقع کے حالات سے ظاہر ہے جو میں نے ایک خط میں چوہدری فتح محمد صاحب کو لکھے تھے جو اُس وقت انگلینڈ میں مبلغ تھے اور جو خط انہوں نے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو محفوظ رکھنے کیلئے دے دیا تھا اور ان کے مرنے کے بعدان کے بیٹے لطف الرحمن نے مجھے ان کے کاغذات میں سے نکال کر بھیج دیا۔وہ خط یہ ہے۔برادرم مکرم چوہدری صاحب ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ پہلے خط کے بعد پھر قریباً تین ہفتہ سے خط نہ لکھ سکا جس کا باعث ترجمہ قرآن کا کام ہے۔مولوی شیر علی صاحب کو کہا ہوا ہے کہ ہر ہفتہ خط جانا چاہیے نہ معلوم جا تا ہے یا نہیں۔پچھلے ہفتہ ایک سخت حادثہ ہو گیا اور وہ بھی خط لکھنے میں روک رہا۔عزیز میاں عبد الحئی کو دو ہفتہ بخار رہا اور گو سخت تھا لیکن حالت مایوسی کی نہ تھی مگر پچھلی جمعرات کو یکلخت حالت بگڑ گئی اور ایک رات اور کچھ حصہ دن کا بے ہوش رہ کر عصر کے قریب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( اُس وقت ایک ڈاکٹر ہیرا لال صاحب کو میں نے لاہور سے بلا یا تھا اُس کا خیال تھا کہ ان کو ٹائیفائیڈ تھا مگر بیماری کی وقت پر تشخیص نہیں کی گئی اور اب مرض آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے ) قریباً اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اب کے ففتھ ہائی کا امتحان دینا تھا سال ڈیڑھ سال سے شبانہ روز جسم و علم میں ترقی تھی اور اب خاصا جوان