خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 394

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۴ جلد دوم آدمی معلوم ہوتے تھے۔ذہن نہایت تیز اور رسا تھا مگر منشاء الہی کے مقابلہ میں انسان کا کچھ بس نہیں چل سکتا اور اُس کے ہر ایک فعل میں حکمت ہوتی ہے اور جیسا کہ مجھے اُن کی وفات کے بعد معلوم ہوا یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہی حکمتوں کے ماتحت تھا ور نہ کئی فتنوں کا اندیشہ تھا۔مرحوم بوجہ کم سن ہونے کے بہت سے فتنہ پردازوں کے دھو کے میں آجاتا تھا۔میں آخری دنوں میں اپنے گھر میں ہی انہیں لے آیا تھا ( ان کی بہن امتہ الحی مرحومہ کی خواہش سے ) اور حیران تھا کہ وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مصر تھا ( یہ نظارہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے وہ امتہ الحی مرحومہ کے دالان میں ہی رہتے تھے میں آخر کام کرنے والا آدمی تھا ہر وقت قرآن کریم کی تفسیر کا کام اور دوسرا کام ہوتا تھا جب میں نیچے جاتا تو آدمی آتا کہ عبد الحئی بلاتا ہے اور کہتا آپ بیٹھیں ، حضرت اماں جان ) میری اماں کو یہاں سے اُٹھا دیں میری جان نہیں نکلے گی۔میری جان تکلیف سے نکلے گی میری ماں کو یہاں سے ہٹا دیں۔غرض وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مصر تھا) اور بار بار کہتا تھا کہ آپ میرے پاس بیٹھے رہیں مجھے اس سے تسلی ہوتی ہے اور اس کے برخلاف اگر اپنی والدہ پاس آتیں تو اُن کو ہٹا دیتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ معلوم ہوتا ہے کہ وفات سے پہلے اس کے دل کے دروازے اللہ تعالیٰ نے کھول دیئے تھے اور ایک پاک دل کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے جاملا۔مجھے اس سے ایسی محبت تھی جیسے ایک سگے بھائی سے ہونی چاہیے اور اس کا باعث نہ صرف حضرت مولوی صاحب کا اُس سے محبت رکھنا تھا بلکہ یہ بھی وجہ تھی کہ اُسے خود بھی مجھ سے محبت تھی بوجہ نا تجربہ کاری کے بعض متفنی لوگوں کے فریب میں آجانا بالکل اور بات ہے اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے باقی بچوں کو نیک اور پاک عمر عطا فرمائے اور جس طرح آپ کا وجود نافع الناس تھا آپ کی اولا دبھی دعائم الملتہ ہو۔اللَّهُمَّ آمِينَ ) لیکن میری اس دعا کو انہوں نے ضائع کر دیا ہے اور خود اپنے لئے تباہی کا بیج بویا ہے ) خاکسار مرزا محمود احمد