خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 392
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۲ جلد دوم بنو امیہ کی لڑائی کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور وہ احمدیوں میں بھی جاری رہے گا۔اختلاف کو قائم رکھنے کیلئے غیر مہابھین نے اس لڑائی کوئی روح بخشتے کیلئے یہ تدبیر کی کہ حضرت خلیفہ اول کی بیوی اور ان کے غیر مبائعین کی ایک تدبیر بچوں کو یہ کہنا شروع کیا کہ اگر حضرت خلیفہ اول کا بیٹا عبدالحی مرحوم خلیفہ ہو جاتا تو ہم بیعت کر لیتے چنانچہ ہم اس کے ثبوت میں مولوی عبدالوہاب صاحب کا ہی ایک مضمون پیش کرتے ہیں۔اب وہ جتنا چاہیں جھوٹ بول لیں مگر یہ ان کا مضمون چھپا ہوا ہے۔انہوں نے ۱۹۳۷ء میں غیر مبائعین کے بعض اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے الفضل میں لکھا کہ :۔”مولوی عبد الباقی صاحب بہاری ایم اے نے بتایا کہ حضرت خلیفہ المسیح اوّل کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کے زمانہ میں خلافت کے چند دشمن حضرت مولوی عبدالحی صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ خلیفہ بن جاتے تو ہم آپ کی اطاعت کرتے۔مولوی عبدالحی صاحب نے باوجود بچپن کے اُن کو جو جواب دیا وہ اس قابل ہے کہ سلسلہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے انہوں نے فرمایا کہ یا تو آپ کو آپ کے نفس دھوکا دے رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں میں سچ کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ بنتا تب بھی آپ میری اطاعت نہ کرتے اطاعت کرنا آسان کام نہیں میں اب بھی تمہیں حکم دوں تو تم ہر گز نہ مانو۔اِس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہمیں حکم دیں پھر دیکھیں کہ ہم آپ کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا نہیں۔مولوی عبد الحئی صاحب نے کہا اگر تم اپنے دعوی میں بچے ہو تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جاؤ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کر لو۔یہ بات سن کر و لوگ بغلیں جھانکنے لگے اور کہنے لگے یہ تو نہیں ہوسکتا۔کا اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے عبد الحی مرحوم کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے پیدا ہوا تھا اس فتنہ سے بچالیا لیکن ان کی والدہ اور ان کے چھوٹے بھائیوں کے دل میں یہ خار کھٹکتا رہا چنانچہ جب میں نے امتہ الحی مرحومہ سے اس لئے شادی کی کہ حضرت خلیفہ اول کی روح خوش ہو جائے کیونکہ ایک دفعہ انہوں نے بڑے صدمہ سے ذکر کیا تھا کہ