خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 391
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۱ جلد دوم اس وفات کے وقت کیا تو یہ شاید میرے لئے سبق تھا کہ دنیا کے کسی گھر کو اپنا گھر سمجھنا غلطی ہے۔۱۴ گویا خودان کی اپنی تحریر بھی اس بارہ میں موجود ہے۔غرض مولوی محمد علی صاحب نے اس صدمہ کے نتیجہ میں بغض کو انتہا تک پہنچا دیا اور جیسے انہوں نے کہا تھا کہ میں مرنے تک یہ صدمہ نہیں بھول سکتا مرنے تک اس واقعہ کو یا د رکھا اور خاندان مسیح موعود کا بغض اپنے دل سے نہیں نکالا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر خلافت ثانیہ کے انتخاب پر بھی انہوں نے بغاوت کی اور اس طرح بغض و حسد کے لمبا کرنے کا سلسلہ انہوں نے جاری کر دیا تا کہ آدم کے زمانہ کا بغض جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک آیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کا بغض جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک آیا تھا اور آپ کے دادا ہاشم بن عبد مناف کے زمانہ کا بغض جو پہلے ابوسفیان اموی کے زمانہ تک آیا تھا اور پھر یزید بن معاویہ اور امام حسین کے زمانہ تک آیا تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک بھی ممتد ہو جائے۔غضب یہ ہوا کہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی مشہور مؤرخ جو پہلے مبائعین میں تھے اور پھر بھاگ کر لاہور آ گئے تھے انہوں نے مضمون لکھا کہ ارائیں قوم جس میں سے مولوی محمد علی صاحب تھے بنوامیہ میں سے ہے۔۱۵ گویا انہوں نے کہا کہ وہ بنو اُمیہ کا بغض پھر بنو محمد سے جاری ہونا چاہیے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے خاندان کے متعلق فرمایا ہے کہ سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلُ الْبَيْتِ ، که سلمان فارسی جن کے خاندان سے بلحاظ فارسی الاصل ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ملتا ہے ہمارے خاندان میں سے ہیں گویا مسیح موعودؓ نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ السلام کے روحانی فرزند تھے بلکہ اس حدیث کے ماتحت ایک رنگ میں آپ کے جسمانی فرزند بھی تھے تو پیغام صلح میں اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے مضمون شائع کیا کہ مولوی محمد علی صاحب بنوامیہ میں سے ہیں گویا بنو امیہ اور حضرت علیؓ کا جو بغض تھا وہ اور لمبا ہو جائے گاختم نہیں ہو گا۔غرض انہوں نے ثابت کر دیا کہ بنو عبد مناف یعنی اولا د محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور