خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 390

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۰ جلد دوم کہ تم بیوقوف ہو مولوی صاحب نے اسے مروا دیا تھا تم بے وقوفی میں یونہی اپنے مذہبی عقیدہ کے ماتحت سمجھتے ہو کہ نہیں مروایا تھا آپ مر گیا تھا۔اس نے خود کشی کوئی نہیں کی اُس کو مروا دیا گیا تھا غرض یہ واقعہ حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے دلوں میں بغض کو بڑھانے کا ایک دوسرا سبب بن گیا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر اختلاف کی وجہ اس کے بعد حضرت خلیفہ اول کی وفات پر خلافت ثانیہ کے انتخاب کا وقت آیا تو مولوی محمد علی صاحب کے اختلاف کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل جاتا تھا دوسری وجہ یہ تھی کہ اُن کی پہلی بیوی مرحومہ جو نہایت ہی نیک عورت تھیں ( میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی موجودہ بیوی نیک نہیں ہے مگر وہ پہلی بیوی میری بہن بنی ہوئی تھیں اور اُن کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا اس لئے میں نے ان کے متعلق اپنی رائے بیان کر دی ہے وہ مجھ سے بہت ہی محبت کرتی تھیں۔فاطمہ بیگم ان کا نام تھا۔مولوی محمد علی صاحب کی جب شادی ہوئی میں بہت چھوٹا سا تھا۔دس سال کا ہونگا کہ وہ آتے ہی میری بہن بن گئیں ہمیشہ میرا سر دیکھنا جوئیں نکالنی بہت ہی محبت کرتی تھیں اور کہتیں یہ میرا بھائی ہے اور میں انہیں بہن کہا کرتا تھا) وہ نومبر ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئیں۔مجھے اس وقت کسی کام کیلئے حضرت خلیفہ اول نے باہر بھیجا ہوا تھا میں جب واپس آیا تو مجھے مرحومہ کی وفات کا علم ہوا میں نے اُسی وقت ایک ہمدردی سے پر خط مولوی محمد علی صاحب کو لکھا مولوی محمد علی صاحب نے اس کے جواب میں مجھے لکھا کہ آپ کے خط کا تو میں ممنون ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ حضرت (اماں جان ) میری بیوی کی لاش دیکھنے نہیں آئیں ( حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاش دیکھنے کیلئے عورتوں کو باہر جانے سے منع کیا ہوا ہے ) یہ صدمہ ایسا ہے کہ میں زندگی بھر اسے نہیں بھول سکتا۔یہ گویا دوسری بنیا دمولوی محمد علی صاحب کے دل میں شیطان نے رکھ دی کہ اب زندگی بھر مخالفت کرتے رہو بلکہ اس واقعہ کا اجمالی ذکر مولوی محمد علی صاحب نے خودر یو یو آف ریلیجنز میں بھی کیا ہے اور یہ الفاظ لکھے ہیں کہ :۔اگر کسی نے میر الحسن ہونے کے باوجود بجائے اظہار غم و ہمدردی کے کسی گزشتہ رنج کا اظہار