خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 385
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۵ جلد دوم ا محمد علی صاحب اس کے سیکرٹری تھے دوسرے ممبروں میں سے خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ تھے۔چھوٹے چھوٹے معاملات میں اختلاف ہوتا تو حضرت خلیفہ اول کی رائے ایک طرف ہوتی اور مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کی رائے دوسری طرف ہوتی اس لئے مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی میں حضرت خلیفہ اول کے خلافت بغض پیدا ہو جاتا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو اس وقت کے حالات کی وجہ سے خواجہ کمال الدین صاحب بہت ڈر گئے اور لا ہور میں جہاں وفات ہوئی تھی مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت خلیفہ اول کی خلافت کا اعلان کر دیا اور خواجہ صاحب نے ڈر کر مان لیا۔جب قادیان پہنچے تو خواجہ صاحب نے سوچا کہ حضرت خلیفہ اول ضرور خلیفہ بنیں گے اور اپنی ہوشیاری کی وجہ سے خیال کیا کہ اگر ان کی خلافت کا مسئلہ ہماری طرف سے پیش ہو تو ان پر ہمارا اثر رہے گا اور وہ ہماری بات مانتے رہیں گے چنانچہ انہوں نے آپ کی خلافت کے متعلق ایک اعلان شائع کیا اور اس میں لکھا کہ الوصیة کے مطابق ایک خلیفہ ہونا چاہیے اور ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مستحق اس کے حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں اس اعلان کے الفاظ یہ ہیں۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیة کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمد یہ موجودہ قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود با جازت حضرت اماں جان کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔۱۲ ( میں نے بھی اسی قانون کے مطابق نیا نظام بنایا ہے صرف تحریک کے وکلاء کو زائد کر دیا ہے کیونکہ اب جماعت احمدیہ کے باہر پھیل جانے کی وجہ سے اس کا مرکزی نظام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے ) اس اشتہار سے پہلے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے وقت مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف کا اظہار کیا جیسا کہ وہ خود اپنی کتاب "حقیقت اختلاف میں لکھتے ہیں کہ :۔